سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی شامل تھے، کے 27 جنوری 2025 کو دیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

وفاقی حکومت نے پیر کے روز توہینِ عدالت آرڈیننس 2003 کے سیکشن 19 کے تحت ایک اپیل (آئی سی اے) دائر کی، جس میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا ایک معمول کا بینچ کسی آئینی ترمیم کی قانونی حیثیت کا جائزہ نہیں لے سکتا۔ اس کے برعکس کوئی بھی تشریح آئین کے آرٹیکل 175 کی صریح دفعات کے خلاف ہوگی۔

اپیل میں کہا گیا کہ مذکورہ حکم نامے نے کمیٹیوں کی فعالیت کو غیر مؤثر بنا دیا ہے اور 2023 کے ایکٹ کے سیکشن 2A کے تحت دیے گئے نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے 28 جنوری کو عندیہ دیا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

اسی روز، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 13 اور 16 جنوری 2025 کو دیے گئے فیصلوں کو واپس لیتے ہوئے انہیں دائرہ اختیار سے باہر اور غیر مؤثر قرار دیا تھا۔

اس سے قبل، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ اے ملک، اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس (CPLA No. 836-K/2020) کی سماعت 16 جنوری 2025 تک ملتوی کر دی تھی۔ بعد میں بینچ میں تبدیلی ہوئی اور جسٹس عقیل عباسی نے جسٹس عرفان سعادت کی جگہ لے لی، مگر انہوں نے اس کیس میں پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ میں فیصلہ دیا تھا، اس لیے بینچ سے علیحدہ ہو گئے۔

بعد ازاں، بینچ نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) نذر عباس کو شوکاز نوٹس جاری کیا کیونکہ انہوں نے 16 جنوری 2025 کے عدالتی حکم کے مطابق کیس کو مقرر نہیں کیا تھا۔ تاہم، نذر عباس کی وضاحت قبول کرتے ہوئے یہ نوٹس خارج کر دیا گیا۔

اس معاملے پر پائی جانے والی پیچیدگی کے باعث تجویز دی گئی کہ اسے حتمی طور پر طے کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو سماعت کرنی چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف