وفاقی وزیر برائے مواصلات، نجکاری اور سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان نے ایک اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ باکو میں وزیر برائے ڈیجیٹل ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپورٹ رشاد نبیئیف سے ملاقات کی۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آذربائیجان کا وفد فروری میں پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے دیگر مواقع خصوصا موٹرویز ایم 6 اور ایم 9 سکھر، حیدرآباد، کراچی کے منصوبوں میں فزیبلٹی اور دیگر مواقع کا جائزہ لیا جاسکے۔
اجلاس میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان شاہراہوں کی تعمیر کے لیے بزنس ٹو بزنس اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ تعاون کے آپشنز پر بھی غور کیا گیا۔
علیم خان نے آذربائیجان کے وزیر ٹرانسپورٹ رشاد نبیئیف سے ملاقات کی اور کہا کہ پاکستان سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک نقل و حمل کے ذرائع کو بہتر بنانا ناگزیر ہے اور خاص طور پر دونوں ممالک پاکستان اور آذربائیجان اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لاجسٹکس کو بہتر بنانے کے لئے مواصلات کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کی کافی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان تاریخی، مذہبی اور گہرے دوستانہ تعلقات ہیں جنہیں مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
آذربائیجان کے وزیر رشاد نبیئیف نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون اور سرمایہ کاری میں نمایاں پیش رفت کا خواہاں ہے اور علیم خان کی سربراہی میں وفد کے دورے سے اس سلسلے میں مثبت پیش رفت ہوگی۔ ملاقات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دونوں ممالک کے درمیان باہمی سرمایہ کاری کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آذربائیجان کے شہر باکو میں ہونے والے اس اجلاس میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے چیئرمین نے ایم سکس اور ایم نائن موٹرویز کے منصوبوں پر بریفنگ دی جب کہ آذربائیجان کے حکام کے ساتھ ریل، روڈ اور مواصلات کے دیگر ذرائع پر پاکستان کے ساتھ باہمی شراکت داری پر مذاکرات ہوئے۔
ملاقات میں پاکستان کی جانب سے ایس آئی ایف سی کے کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد اور وفاقی سیکریٹری پٹرولیم مومن علی آغا بھی موجود تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments