چیئرمین نیشنل بزنس گروپ ، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدر، آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی آئی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں جاری سیاسی محاذ آرائی اور انتقامی سیاست نے ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر غیر مستحکم کردیا ہے۔اس کے ساتھ ہی دہشت گردی نے ملکی معیشت پر بھیانک اثرات مرتب کیے جس کے باعث ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول قائم نہ ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اصلاحات نے بھی معیشت کو سست کردیا۔ حکومت کو توانائی، دیگراجناس اور ٹیکس شرح میں مسلسل اضافہ کرنا پڑرہا ہے جس سے معیشت تو بہتر ہورہی ہے لیکن عوام کی بے چینی بڑھ رہی ہے۔اگلے ماہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔اسٹیٹ بینک نے مارک اپ ریٹ مزید ایک فیصد کم کرکے 12 فیصد کردیا ہے۔ افراط زر کی شرح بھی کم ہوکر چار فیصد رہ گئی ہے جس سے عوام کو ریلیف ملنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
ان حالات میں اپوزیشن کو بھی ملکی مفادات کی خاطر افراتفری کی سیاست بند کرنی چاہیے اور پارلیمانی سیاست میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔معاشی بحالی میں رکاوٹ ڈالنے والے ملک کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہراساں کرنا قابل مذمت ہے اور اس سے ملکی ساکھ اور سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوتا ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرنے والے عناصر سخت سزا کے مستحق ہیں۔ موجودہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں اور معیشت بتدریج بہتر ہورہی ہے۔ سیاسی صورتحال بھی بہتر ہورہی ہے۔ تاہم سرمایہ کاری اور ٹیکس معاملات تسلی بخش نہیں ہیں.
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ دیگر دوست ممالک مسلسل وعدے کر رہے ہیں جن پر عمل درآمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ان حالات میں چینی سرمایہ کاروں کو ہراساں کرنا، ان کی سیکیورٹی کو نظر انداز کرنا اور رشوت کا مطالبہ قابل مذمت اور انتہائی منفی پیغام جاتا ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ پولیس نے چینی سرمایہ کاروں کو اس حد تک ہراساں کیا ہے کہ وہ ملک چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ بزنس لیڈر نے مزید کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کے الزامات کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments