جی ایس پی پلس کے تحت تجارتی فوائد یورپی یونین کے نمائندوں سے مذاکرات میں سرفہرست ایجنڈا
- وفاقی وزیر تجارت سے یورپی یونین کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق سفیر اولاف اسکوگ کی ملاقات، شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے یورپی یونین کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق سفیر اولاف اسکوگ نے ملاقات کی جس میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کے ذریعے شراکت داری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا
ملاقات کا محور جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے تحت تجارتی فوائد کو برقرار رکھنا اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنانا تھا۔
اس دوران پاکستان کی جانب سے دستخط شدہ 27 بین الاقوامی کنونشنز کی پابندی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا جن میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی معیارات، اور اچھی حکمرانی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ان معاہدوں کی پاسداری کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان پہلوئوں میں بہتری صرف بین الاقوامی ذمہ داریوں کے طور پر نہیں بلکہ بطور قوم اور حکومت کی بہتری کے لیے کر رہے ہیں۔
سفیر اولاف اسکوگ نے یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی فعال شمولیت کو سراہا اور جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستانی برآمد کنندگان اور یورپی درآمد کنندگان کے لیے باہمی فوائد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان انسانی حقوق کے کثیرالجہتی فورمز پر مضبوط تعاون کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
وزیر تجارت نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت کو درپیش اقتصادی چیلنجز کے باوجود حکومت نے مہنگائی اور شرح سود میں کمی کے ساتھ خاطر خواہ پیش رفت حاصل کی ہے۔
دونوں فریقین نے باہمی خدشات کو دور کرتے ہوئے پاکستان کی جی ایس پی پلس کی اہلیت کو برقرار رکھنے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا
وفاقی وزیر تجارت نے معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیل کے تحت اقدامات کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا اہم شراکت دار ہے اور ہم اپنے تجارتی اور سفارتی تعلقات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments