کرم ایجنسی ایک بار پھر منفی واقعات کی بنا پر خبروں میں ہے۔ 2023 کے بعد سے اراضی / فرقہ وارانہ تنازعات کی وجہ سے حالیہ اور وقفے وقفے سے جاری جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر منظر عام پر آیا ہے جس کی جڑیں تاریخ میں ملتی ہیں۔
یہ جھڑپیں ایک بار پھر دونوں طرف اموات اور زخمیوں کا سبب بنی ہیں اور علاقے میں موسم سرما کے سرد ترین حصے میں خوراک، دوا اور دیگر ضروری سامان کی شدید کمی پیدا ہوگئی ہے۔
4 جنوری 2025 کو رپورٹ ہونے والے تازہ ترین واقعے میں خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت کی تاخیر سے اور ناکام ہونے والی کوششیں، جن میں روایتی جرگہ کے ذریعے امن قائم کرنے اور ٹل-پاڑہ چنار روڈ کو کھولنے کے اقدامات شامل تھے، ایک اور حملے کا شکار ہو گئے، اس حملے میں ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود اور ان کی ٹیم کے 6 دیگر افراد زخمی ہوئے جو پاڑا چنار کے لیے روانہ کئے جانے والے ایک امدادی قافلے کے سیکورٹی انتظامات کا معائنہ کر رہے تھے۔
پاڑہ چنار تک جانے والی سڑک ماضی قریب میں تشدد کے حملوں کا شکار رہی ہے، جس میں سب سے خونریز حملے میں 40 افراد مارے گئے تھے۔
کرم میں وقفے وقفے سے ہونے والی قبائلی-فرقہ وارانہ جھڑپوں کی پس پردہ وجوہات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا مختصر جائزہ ضروری ہے۔ کرم ایجنسی ( جو وفاق کے زیرانتظام ضم ہونے والے قبائلی علاقہ تھا لیکن اب ضلع کرم بن چکا ہے) جیسا کہ آج ہے، پہلے افغانستان کا اس وقت تک حصہ تھا جب برطانیہ نے 19ویں صدی کی انگریزافغان جنگوں کے دوران اس پر قبضہ نہیں کیا تھا۔
قبل ازیں موجودہ فرقہ وارانہ تقسیم کی جڑیں 18ویں صدی میں طوری قبیلے (جو شیعہ ہے) کے علاقے میں داخل ہونے سے ملتی ہیں۔ قدرتی طور پر، اس کی آمد سے یہاں پہلے سے آباد قبائل کے ساتھ تنازع شروع ہوا جو سنی ہیں۔
تب سے اراضی کے تنازعات عموماً فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ یہ قبائل شیعہ سنی خطوط پر تقسیم ہیں۔
1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران سنی مجاہدین نے کرم کو اپنے حملے کے لیے بطور لانچ پیڈ استعمال کرنے کے خلاف شیعہ قبائل کی مزاحمت سے مشتعل ہو کر طوری اور دیگر (نسبتاً چھوٹے) شیعہ قبائل کے ساتھ اکثر جھڑپیں کیں۔ سنی مجاہدین اور ان کے انتہاپسند اتحادیوں جیسے کہ القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک نے کرم کو افغانستان میں اپنی کارروائیوں کے لیے ایک لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس کے نتیجے میں تاریخی طور پر موجود اراضی اور فرقہ وارانہ تقسیم میں اب ایک نظریاتی زاویہ شامل ہوگیا، جس نے سعودی حمایت یافتہ سنی مذہبی انتہاپسند گروپوں اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ گروپوں کے درمیان مزید تقسیم پیدا کر دی۔
افغان جنگوں نے کرم میں فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا اور پیچیدہ کرنے کے حوالے سے ایک اور ”تحفہ“ چھوڑا ہے۔
کرم میں بار بار ہونے والے اراضی اور فرقہ وارانہ تنازعات کے حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکام کی حکمت عملی متعدد پہلوؤں سے ناکافی ہے۔
سب سے پہلے اوراہم ترین بات یہ ہے کہ روایتی جرگہ میکانزم کے ذریعے ہر خونی تصادم کے بعد طے پانے والے امن معاہدوں پرعمل درآمد کے سلسلے میں غیر مستقل مزاجی اور ناکامی ایک مسئلہ ہے۔
نتیجتاً اس طرح کے کھلے معاہدوں کی بھی جلد یا بدیر خلاف ورزی ہوتی ہے، محدود مدت کے حامل معاہدوں کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ کے پی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ہے، جو ایک دہائی سے مسلسل برسراقتدار ہے جو اس پے در پے ہونے والے تنازعات کو حل کرنے کی اپنی کوششوں میں انتہائی سستی اور غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ وفاقی حکومتوں نے بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، کبھی کبھار فوجی طاقت کا استعمال اور پھر طویل عرصے تک خاموشی سے نظر انداز کرنے کا رویہ اختیار کیاجاتا ہے جو اس معاملے میں وفاقی اور صوبائی تقسیم کا منطقی نتیجہ۔
2021 میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے کے پی میں تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کی بڑھتی ہوئی پروفائل کو دیکھتے ہوئے، یہ اہم ہے کہ ایک طرف وفاقی حکومت اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور دوسری طرف کے پی پی ٹی آئی حکومت اپنے دیگر اختلافات کو بالائے طاق رکھیں اور کرم میں اراضی سے متعلق مسائل اور اس سے جڑے فرقہ وارانہ تنازعات کے خطرے کواگر ختم نہیں کرسکتے تو اسے کم کرنے پر توجہ مرکوز کریں ایسا نہ ہو کہ یہ ٹی ٹی پی اور دیگر سنی انتہا پسند گروہوں کو کرم میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی کے شعلوں کو ہوا دینے کی ترغیب دیں ۔
سابقہ قبائلی ایجنسی کی آبادی 7 لاکھ ہے، جس میں سے 42 فیصد شیعہ ہیں۔ یہ حقیقت حکام کو کرم میں فرقہ وارانہ تنازع کے بڑھتے ہوئے اور شدت اختیار کرنے کی ممکنہ خطرناک نوعیت سے آگاہ کرنا چاہیے۔ تاریخ، قبائلی اراضی کے تنازعات اور فرقہ وارانہ اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے، ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کرم میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی کے بڑھتے خطرے کو روکے، جو ملک بھر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے جڑے امن کے لیے واضح خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments