صوبوں کا ہیومین ڈویلپمنٹ انڈیکس
2023 کی مردم شماری نے اہم اشاریوں پر بہت مفید معلومات فراہم کی ہیں۔ اعداد و شمار علاقائی سطح پر اضلاع تک دستیاب ہیں۔
اس مضمون کا مقصد پاکستان کے چار صوبوں کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) تعمیر کرنا ہےجس میں مردم شماری سے حاصل کردہ اہم اشاریوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس، جو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے تیار کیا ہے، کے تین اہم اجزاء ہیں:
•صحت
•آمدنی
2023 کی مردم شماری ہر صوبے کے لیے تعلیم کے مندرجہ ذیل اشاروں کا تخمینہ فراہم کرتی ہے:
•شرح خواندگی
•مجموعی ابتدائی داخلہ کی شرح
•مجموعی مڈل اور ثانوی داخلہ کی شرح
•مجموعی انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن داخلہ کی شرح
•اسکول جانے والے بچوں کا فیصد
مثال کے طور پر صوبوں میں خواندگی کی شرح میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ 2023 میں سب سے زیادہ شرح خواندگی پنجاب میں 66.3 فیصد تھی، اس کے بعد یہ شرح سندھ میں 57.5 فیصد، خیبر پختونخوا میں 51 فیصد اور بلوچستان میں 42 فیصد شرح خواندگی تھی۔
مردم شماری کے مطابق قومی شرح خواندگی 61 فیصد ہے۔ گزشتہ سروے کے نتائج کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ 2019 سے 20 کے بعد خواندگی کی شرح میں صرف معمولی اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت اضافہ صرف پنجاب میں ہوا ہے۔ بظاہر سب سے زیادہ کمی بلوچستان میں 46 فیصد سے 42 فیصد تک ہے۔
5 سے 16 سال کی عمر کے اسکول جانے والے بچوں کی شرح میں بھی کافی فرق ہے۔ پنجاب میں یہ شرح نسبتا زیادہ 73 فیصد اور بلوچستان میں سب سے کم 42 فیصد ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں یہ شرح بالترتیب 53 فیصد اور 62 فیصد ہے۔
صوبوں میں صحت کی صورتحال کے اشاریوں پر نظر ڈالیں تو دو درج ذیل دو اشار ملتے ہیں:
•معذوری اور افعال کی محدودیت کے ساتھ آبادی کا فیصد
•60 سال سے زیادہ عمر کی آبادی کا فیصد (متوقع عمر کے لئے پراکسی کے طور پر)
معذوری اور ف میں مبتلا آبادی کا پہلا ہیلتھ انڈیکیٹر بلوچستان میں سب سے کم 8.5 فیصد ہے، اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 11.5 فیصد، سندھ میں 11.6 فیصد اور پنجاب میں 14.1 فیصد ہے۔
تاہم 60 سال سے زیادہ عمر کی آبادی کے فیصد میں اس کے برعکس درجہ بندی دیکھی جاتی ہے۔ پنجاب میں یہ سب سے زیادہ 10.3 فیصد اور بلوچستان میں سب سے کم 5.5 فیصد ہے۔
پانچ اشارے ہیں جنہیں صوبوں میں فی کس آمدنی کے حوالے سے موازنہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ مکانات کے اوسط سائز اور معیار کا اشارہ فی کس آمدنی کا ایک اچھا متبادل ہے۔ اس کے علاوہ فی کس آمدنی عام طور پر شہری علاقوں میں دیہی علاقوں سے زیادہ ہوتی ہے اور دیہی علاقوں کے اندر بڑی آبادیاں اقتصادی سرگرمی میں زیادہ حصہ لیتی ہیں۔
لہٰذا مردم شماری سے فی کس آمدنی کے لیے استعمال ہونے والے اشارے درج ذیل ہیں:
•اوسط ہاؤسنگ یونٹ کا سائز (کمروں میں)
•اوسط ہاؤسنگ یونٹ کا معیار، پکے ہاؤسنگ یونٹوں کے فیصد سے پیمائش کی جاتی ہے
•شہری آبادی کا فیصد
•بڑی دیہی بستیوں میں آبادی کا فیصد جس کی آبادی 2000 سے زیادہ ہے
•پرائمری شہر میں شہری آبادی کا فیصد شیئر
تین اشاریوں میں سندھ کی درجہ بندی سب سے زیادہ ہے، خاص طور پر شہرکاری کی حد اور قسم سے متعلق۔ ہاؤسنگ انڈیکیٹرز میں پنجاب کی رینکنگ سب سے زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب میں 81 فیصد ہاؤسنگ یونٹس پختہ ہیں جبکہ سندھ میں 58 فیصد، خیبر پختونخوا میں 56 فیصد اور بلوچستان میں صرف 20 فیصد ہاؤسنگ یونٹس ہیں۔
ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس اور ہر صوبے کے اجزاء میں انڈیکس کی قدریں جدول 1 میں دی گئی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں پنجاب سب سے زیادہ انڈیکس ویلیو رکھتا ہے، اس کے بعد خیبر پختونخوا کا نمبر آتا ہے۔ شاید حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ اب بھی تعلیم تک رسائی میں تیسرے نمبر پر ہے۔
صحت کے شعبے میں خیبر پختونخوا سرفہرست ہے، اس کے بعد پنجاب اور سندھ کا نمبر آتا ہے۔ توقع کے مطابق کراچی میں معاشی سرگرمیوں کے ارتکاز کی وجہ سے سندھ کی فی کس آمدنی میں سب سے زیادہ انڈیکس ویلیو ہے۔ یہاں ایک بار پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں انڈیکس ویلیو سب سے کم ہے۔
مجموعی طور پر پنجاب سب سے زیادہ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) 0.550 کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد سندھ ہے جس کا ایچ ڈی آئی 0.505 ہے، اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایچ ڈی آئی بالترتیب 0.442 اور 0.312 فیصد ہے۔
پنجاب اور سندھ دونوں کو 0.5 فیصد سے زیادہ کی انسانی ترقی کی درمیانی سطح پر سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان دونوں ایچ ڈی آئی کی نچلی سطح پر ہیں۔
ایچ ڈی آئی کی صوبائی درجہ بندی یو این ڈی پی نے اپنی پاکستان ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ 2018-19 ء میں پیش کی تھی، جس میں بیشتر اعداد و شمار ادارہ شماریات کی جانب سے کیے گئے سروے سے حاصل کیے گئے۔
Comments