سیکیورٹی فورسز نے لوئر کرم کے علاقے باگان کے قریب واقع فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کرنے والے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

ذرائع کے مطابق حملے میں پاک فوج کے 6 جوان شہید جبکہ 7 زخمی ہوگئے۔ شہید فوجیوں کی لاشوں اور زخمیوں کو تال کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کردیا گیا ہے۔

شہید ہونے والوں میں نائب صوبیدار خالد بنگش، حوالدار جاوید اورکزئی، لانس نائیک ولایت حسین طوری، لانس نائیک شہید الرحمان، سپاہی نظام الدین محسود اور سپاہی شفاعت اللہ آفریدی شامل ہیں۔

یہ واقعہ 21 نومبر کو ایک مہلک مسلح حملے کے بعد پیش آیا ہے، جب پاراچنار کے مسافروں کے ایک قافلے کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 8 خواتین اور 5 بچوں سمیت 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں ایک ماہ کے دوران فرقہ وارانہ جھڑپوں میں اب تک 150 سے زائد مقامی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اس سے قبل جمعے کے روز ضلع کرم کے قبائلی عمائدین نے علاقے میں امن کو یقینی بنانے کے لیے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ کمشنر کوہاٹ ڈویژن کی سربراہی میں ایک عظیم الشان جرگہ منعقد ہوا جس میں دونوں اطراف کے 100 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔

6 دسمبر کو کوہاٹ میں جرگے کے دوران کمشنر کوہاٹ ڈویژن اور ضلع کرم کے قبائلی عمائدین کے درمیان غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ کمشنر نے دیرپا امن کی ضرورت پر زور دیا اور شورش زدہ علاقے میں حکومت کی رٹ کے نفاذ کی یقین دہانی کرائی۔

دونوں قبیلوں کے مندوبین نے اس وقت تک بات چیت جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جب تک کوئی پائیدار حل نہیں نکل جاتا۔ ضلع کرم میں کئی ماہ سے زمین کے تنازعات پر مختلف قبائل کے درمیان شدید فرقہ وارانہ تنازعات اور تشدد کا سامنا ہے۔

دریں اثنا مقامی رہائشیوں نے بزنس ریکارڈر سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کرم بالخصوص پاراچنار کے بینکوں کو اس وقت سڑکوں کی طویل بندش کے نتیجے میں نقد رقم کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صارفین کو اپنے فنڈز تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اے ٹی ایم مشینوں اور بینک کاؤنٹرز میں اکثر نقد رقم کی کمی ہوتی ہے، بینکوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں، کیونکہ لوگ اپنی تنخواہوں اور پنشنوں کو نکالنے کے موقع کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

مقامی لوگوں نے نقدی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مالی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکامی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا کیونکہ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے اور اب مزید خراب ہوگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کی مارکیٹوں کو اس وقت غذائی مصنوعات کے ساتھ ساتھ ضروری اور زندگی بچانے والی ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

200 حروف