وزیراعظم شہباز شریف فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کے آٹھویں ایڈیشن میں شرکت کیلئے سعودی عرب پہنچ گئے
وزیراعظم شہباز شریف 29 سے 30 اکتوبر تک ریاض میں ہونے والے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی) کے آٹھویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ کابینہ کے اہم ارکان بھی موجود ہیں۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر ریاض کے ڈپٹی گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے شہباز شریف کا استقبال کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنے بھائی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر آٹھویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس میں شرکت کے لیے خوبصورت شہر ریاض پہنچا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں اس متاثر کن اجتماع میں شرکت کے منتظر ہوں جہاں سیاسی، کاروباری اور کارپوریٹ دنیا کے رہنما موجود ہوں گے تاکہ سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کی جا سکے، سعودی قیادت سے ملاقاتوں میں پاک سعودی تعلقات کو تجارت اور سرمایہ کاری میں مضبوط اور باہمی فائدے مند شراکت داریوں کے ذریعے مزید مستحکم کرنے کی ہماری مشترکہ خواہش کی تصدیق کروں گا۔
فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو ممالک کیلیے معاشی طاقت کو ظاہر کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ایک پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔
اس سال کا ایف آئی آئی موضوع ”لامحدود افق: آج کی سرمایہ کاری، کل کی تشکیل“ ہے اور یہ عالمی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرے گا جو اہم مسائل جیسے کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، تعلیم، توانائی، خلا، مالیات، صحت کی دیکھ بھال اور پائیداری کو حل کرنے کے لیے ہیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ توقع ہے کہ وزیراعظم ایف آئی آئی کے آٹھویں ایڈیشن میں شریک رہنماؤں اور کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کی سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان اور دیگر اعلیٰ سعودی حکام کے ساتھ اہم دو طرفہ بات چیت بھی متوقع ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلہ خیال کریں گے اور اقتصادی، توانائی اور دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعاون تلاش کریں گے۔
رواں ماہ کے اوائل میں سعودی سرمایہ کاروں کا ایک اعلیٰ سطح وفد وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح کی سربراہی میں تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچا تھا۔
دورے کے دوران فریقین نے صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک، تعلیم، کان و معدنیات، صحت، پٹرولیم، توانائی اور باہمی تعاون کے دیگر شعبوں سمیت مختلف شعبوں میں 2.2 ارب ڈالر مالیت کی 27 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔
Comments