وفاقی کابینہ نے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی، بعض اپیلیٹ فورمز ختم
- اپیلوں سے نمٹانے میں تاخیر سے قانونی چارہ جوئی میں 2 ٹریلین روپے پھنسے ہیں
سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی منظوری دی ہے جس کا مقصد کچھ اپیلیٹ فورمز کو ختم کرکے متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کو اپنانا ہے۔
17 اپریل 2024 کو یہ آئٹم چیئر/وزیراعظم کی اجازت سے پیش کیا گیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا کہ اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) مالیاتی قوانین میں فراہم کردہ اپیل کے حوالے سے آخری اتھارٹی تھی۔
برسوں کے دوران مختلف وجوہات کی بناء پر،بینچوں کی من مانی تشکیل اور انکی ناکافی تعداد نے، مقدمات کے فیصلے اور اپیلوں سے نمٹانے میں تاخیر نے اے ٹی آئی آر کی قانونی چارہ جوئی میں 2 ٹریلین روپے پھنسائے ہوئے ہیں۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ ایف بی آر قانونی چارہ جوئی کے مقدمات بالخصوص اے ٹی آئی آر میں زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر برائے قانون و انصاف نے اس تشویشناک صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جو مختلف اپیلیٹ فورمز بالخصوص اے ٹی آئی آر اور کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیلز) کے ذریعہ ریونیو کی بہت بڑی رقم روکے جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ لہٰذا، قانون سازی کے ذریعے فوری طور پر کچھ اپیلیٹ فورم کو ختم کرنا ضروری تھا۔
مذکورہ بالا صورتحال کے پیش نظر، یہ تجویز کیا گیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ، 2005 کی بعض دفعات میں ترمیم کی جا سکتی ہے، مندرجہ ذیل، اپیلٹ فورم کو چار سے کم کر کے تین کر دیا جائے تاکہ مقدمات کے فیصلوں میں تیزی لائی جائے۔
i-اپیل ٹربیونل: چیئرمین کی تقرری کی مدت 3 سال ہوگی، اراکین کی تقرری ایف پی ایس سی کے ذریعے ہوگی۔ کیس کا تعین اور بنچ کی تشکیل 3 ارکان پر مشتمل ہو گی۔ ہر بنچ میں کم از کم ایک رکن IRS (BS-21/20) سے ہو؛ کمشنر کو سننے کے بعد ہی سٹے دیا جائیگا۔ زیادہ سے زیادہ 90 دن کا سٹے دیا جائیگا، اگر ٹیکس دہندگان کی طرف سے سماعت کے شیڈول پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو سٹے آرڈر ختم کردیا جائیگا، تازہ اپیلوں کا فیصلہ 90 دنوں میں کیا جائے گا ( زیر التواء اپیلیوں کا 180 دنوں میں) اور کمشنرکی جانب سے منتقل کیے گئے مقدمات (اپیل) کا فیصلہ 180 دنوں میں کیا جائے گا۔
ii- متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) میکانزم: اے ڈی آر کمیٹی کو مقدمہ، استغاثہ یا دیگر قانونی کارروائیوں سے استثنیٰ فراہم کیا جائے گا۔ ٹریبونل پہلی سماعت پر ٹیکس دہندگان کو اے ڈی آر کے بارے میں مطلع کرے گا۔ ایس او ایز لازمی طور پر اے ڈی آر کے ذریعے تنازعہ کو حل کریں،اے ڈی آر کی تنازعات کی حد کو 100 ملین روپے سے کم کر کے 50 ملین روپے کر دیا جائے گا۔ اور ایس او ایز کو اے ڈی آر کے تحت حل ہونے والے ٹیکس تنازع میں مقدمہ، استغاثہ اور دیگر قانونی کارروائیوں سے بھی استثنیٰ فراہم کیا جائے گا۔
iii- ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا وقت کم کر کے 30 دن (موجودہ 90 دن) کر دیا جائے، اپیل کی درخواستوں کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیے جائیں گے۔ خصوصی بنچ 6 ماہ میں ریفرنس کا فیصلہ کریں گے۔ ہائی کورٹس کیس مینجمنٹ سسٹم قائم کریں گی۔ٹربیونل کے فیصلے کے بعد 30 دن تک کمشنر کے ذریعہ کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ اپیلٹ ٹربیونل کی تصدیق شدہ ٹیکس ڈیمانڈ کا 30 فیصد حکومت کے پاس جمع کرانے پر ریکوری روک دے گی۔ چیف کمشنر کی طرف سے تحریری طور پر اختیار ملنے کے بعد کمشنر کی طرف سے ریفرنس دائر کیا جائے گا۔
اس طرح کے اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے ایف بی آر نے ٹیکس قوانین (ترمیمی) بل 2024 کا مسودہ پیش کیا، جس کی قانون ڈویژن کی طرف سے باقاعدہ جانچ پڑتال کی گئی اور وفاقی کابینہ نے اس پر غور کیا۔
ایف بی آر نے کہا کہ رولز آف دی بزنس 1973 کے قاعدہ 16(1)(a) کے تحت منی بلز سمیت قانون سازی کی تجاویز کو کابینہ کے سامنے لانا ضروری تھا۔
قانون سازی کے مقدمات کو نمٹانے کے لیے کابینہ کمیٹی ( سی سی ایل سی) کو ایف بی آر نے کیس جمع کرانے کی شرط سے استثنیٰ کی ضرورت کا حوالہ دیا۔
جواب میں، یہ واضح کیا گیا کہ سی سی ایل سی یا کسی دوسری کابینہ کمیٹی کی موجودگی کسی بھی طرح سے کابینہ کے مینڈیٹ کو محدود نہیں کرتی ہے کہ وہ ایسے معاملات پر براہ راست غور کرے جو اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں کہ رولز آف بزنس، 1973 نے ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی۔اور اس میں استثنیٰ کی ضرورت نہیں تھی۔
تفصیلی بحث کے بعد، کابینہ نے مجوزہ ”ٹیکس قوانین (ترمیمی) بل، 2024 کے ذریعے ٹیکس قوانین میں ترامیم“ کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کو مسودہ (ترمیمی) بل میں ٹائپوگرافیکل غلطیاں اور تضادات، اگر کوئی ہیں، کو دور کرنے کا مزید اختیار دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024
Comments
Comments are closed.