پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے متنازع کینال منصوبہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام ان نہروں کی مخالفت کریں گے تو ان کی جماعت حکومت کے بجائے عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے گڑھی خدا بخش میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 46ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف صاحب یہ صرف ہمارا نہیں بلکہ عوام کا مطالبہ ہے… اگر ہمیں بھائیوں کی طرح متحد رہنا ہے تو آپ کو اس منصوبے کو واپس لینا ہوگا۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ پیپلز پارٹی پانی کی تقسیم کے حوالے سے کسی بھی غیر ذمہ دارانہ فیصلے کی اجازت نہیں دے گی اور متنازع منصوبوں کے ذریعے ملک کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے جدوجہد کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ سابق وزیر اعظم اور ان کی والدہ بے نظیر بھٹو تھیں جنہوں نے اقتدار سے باہر رہتے ہوئے بھی ایک متنازع ڈیم منصوبے کو روکا تھا۔
انہوں نے اس معاملے پر لیکچر دینے والوں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ ڈیم منصوبے کو کس نے روکا؟ کیا تم بھول گئے ہو؟ یہ شہید بینظیر بھٹو ہی تھیں جو اس کے خلاف کھڑی ہوئیں۔
پیپلز پارٹی کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت متنازع نہروں کے منصوبے کے آغاز سے ہی اس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہروں پر جنرل (ر) پرویز مشرف کا یکطرفہ فیصلہ ہو یا پی ٹی آئی کے بانی کی پالیسیاں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی مخالفت کی ہے۔
انہوں نے حکومت کے یکطرفہ رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں اس منصوبے کو مسترد کرچکی ہے۔ اس منصوبے کی صدر آصف علی زرداری نے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں بھی مخالفت کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہروں کے منصوبے پر حکومت سے ناخوش ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اس کا حصہ نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکام انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی پانی کی قلت سے متعلق رپورٹ پر نظر ثانی کریں، جس میں نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب میں بھی پانی کی قلت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس مسئلے پر اچانک آواز اٹھانے پر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں نے نہروں کے منصوبے کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی تھی اور اب وہ ابھی بیدار ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب قیدی نمبر 804 نے نہر منصوبے شروع کیے تو پیپلز پارٹی ہی ان کی مخالفت کرنے والی واحد جماعت تھی جبکہ دیگر خاموش رہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی اس منصوبے کی تکمیل کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا، “ہم نے اس منصوبے کو پہلے بھی مسترد کر دیا تھا، اور ہم اسے مسترد کرتے رہیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ دریائے سندھ کو تقسیم کرکے علاقائی دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہمیں تقسیم کرنے کے لئے دریائے سندھ کو توڑنا چاہتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، قوم پرست گروہ اس منصوبے کے خلاف متحد ہوگئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دریائے سندھ کو آزادانہ طور پر بہنے دے۔
بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے سندھ اور پنجاب کے عوام کی بات سنے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ’پاکستان کھپے‘ کہا لیکن پانی کی تقسیم میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments