وزیراعظم شہبازشریف نے ڈیجیٹل دور کو اپنانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر رمضان ریلیف پیکیج 2025 کے شفاف اور کامیاب نفاذ کو سراہا اور ہدایت کی کہ آئندہ منصوبوں میں بھی اسی انداز کو اپنایا جائے۔

وزیراعظم نے رمضان پیکیج پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے حکومتی ٹیم اور اہم اداروں کی کاوشوں کو سراہا، جنہوں نے فنڈز کی تقسیم میں مؤثر کردار ادا کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ عوام کو وہاں ریلیف پہنچے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ملک کے پہلے ڈیجیٹل والیٹ سسٹم کے اجرا کو وزیراعظم نے بے مثال شفافیت اور فنڈز کی مؤثر ترسیل کا ضامن قرار دیا۔

رواں سال کا ریلیف پیکج جو کراچی سے لے کر گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر تک پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا، قومی بحث کا موضوع بن گیا۔

شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی کاوشوں کو خصوصی طور پر سراہا، جنہوں نے حد سے بڑھ کر کام کیا تاکہ ہر روپیہ اپنے جائز مستحق تک پہنچے۔

اگرچہ وزیراعظم پیکیج کے شفاف اور کامیاب نفاذ کو سرارہے ہیں مگر میدان سے آنے والی رپورٹس زیادہ پیچیدہ اور مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔

متاثر کن رول آؤٹ کے باوجود،شہباز شریف نے یہ واضح کیا کہ حکام عمل درآمد کے مرحلے کے دوران درج کی جانے والی شکایات پر کڑی نظر رکھیں گے۔

اس دوران 1,273 شکایات درج کی گئیں،حکومتی اہلکاروں نے عوام کو فوری طور پر یقین دلایا کہ تیزی سے کارروائی کی گئی ہے اور تقریباً 80 فیصد فنڈز پہلے ہی تقسیم ہوچکے ہیں۔

عوام کو اس مؤثرعمل کے بارے میں کیسے آگاہی ملی؟ ظاہر ہے کہ حکومت نے پروموشنل مہم میں بھرپور محنت کی اور کسی بھی کمی کو نظر انداز نہیں کیا۔

6.2 ملین روبو کالز کی گئیں ، اس کے علاوہ 178,700 آؤٹ باؤنڈ کالز اور 6.1 ملین ایس ایم ایس پیغامات بھی بھیجے گئے۔

اس کے علاوہ، نیشنل ٹیلیکوم کارپوریشن (این ٹی سی) نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 126,839 آؤٹ باؤنڈ اور 158,551 ان باؤنڈ کالز کو نمٹایا ۔

لیکن یہ صرف پیسے کی بات نہیں ہے۔ اس مہم نے ایک وسیع میڈیا مہم کے ذریعے لاکھوں افراد تک پہنچنے کا عمل جاری رکھا، جس میں ٹیلی ویژن، پرنٹ اور سوشل میڈیا چینلز شامل تھے، تاکہ عوام ہر قدم پر آگاہ رہیں۔

لیکن شاید اس اسکیم کا سب سے انقلابی پہلو ڈیجیٹل والیٹس پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔ پروگرام کے حصہ کے طور پر شاندار 951,191 ڈیجیٹل والیٹس فعال کیے گئے اور تقریباً 2 ملین ڈیجیٹل ادائیگیاں کی گئیں۔

سب سے حوصلہ افزا اعدادوشمار میں وزیراعظم نے فخریہ طور پر اعلان کیا کہ 823,653 خواتین اور 2,541 معذور افراد کو ان والیٹس کے ذریعے فنڈز وصول کرنے کا اختیار دیا گیا — جو شمولیت اور ڈیجیٹل مساوات کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

تو، کیا پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی طرف پرعزم تبدیلی بالآخر شروع ہو گئی ہے؟ یا پھر رمضان ریلیف پیکج محض ایک اور اچھا اقدام ہے؟

79 فیصد فنڈز کی تقسیم اور لاکھوں افراد کے منتظر ہونے کے ساتھ، یہ واضح ہے کہ یہ ڈیجیٹل انقلاب ابھی ختم نہیں ہوا۔ تاہم، یہ وقت اور نگرانی کی آزمائش پر کس حد تک پورا اُترے گا، یہ دیکھنا باقی ہے۔

وزیراعظم کے ساتھ متعدد اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جن میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، آہَد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، اور شزا فاطمہ خواجہ شامل تھے۔

اجلاس میں وزیراعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد، اور چند کارپوریٹ رہنما بھی شریک تھے۔

لیکن جب وزیراعظم اپنی ٹیم کی ستائش کر رہے ہیں، تو سب سے بڑا سوال یہ ہے: کیا یہ ڈیجیٹل انقلاب حقیقت میں قائم رہ پائے گا، یا یہ بھی کئی دوسری اچھی نیتوں سے شروع ہونے والی اسکیموں کی طرح محض ماضی کا حصہ بن جائے گا؟

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف