پاکستان

امریکی ٹیرف کے اثرات کم کرنے کیلئے مؤثر حکمت عملی تیار

  • 12 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل ، کمیٹی امریکہ کی حالیہ جوابی ٹیرف پالیسی کا تفصیلی جائزہ لے گی اور اس پر پالیسی ردعمل تیار کرے گی
شائع 05 اپريل 2025 09:22am

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر 39 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے سے نمٹنے کے لیے 12 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔

یہ اقدام امریکہ کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے جو کہ خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے میں پاکستان کی برآمدی مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اعلان کیا گیا کہ یہ کمیٹی امریکہ کی حالیہ جوابی ٹیرف پالیسی کا تفصیلی جائزہ لے گی اور اس پر پالیسی ردعمل تیار کرے گی۔

کمیٹی کی تشکیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان سمیت متعدد تجارتی شراکت داروں پر بھاری محصولات عائد کرنے کے بعد کی گئی ہے۔

12 رکنی کمیٹی میں وزیر خزانہ، وزیر تجارت، وزیر پٹرولیم، معاون خصوصی برائے صنعت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین، سیکریٹری خارجہ، امریکا میں پاکستان کے سفیر، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) میں پاکستان کے سفیر، ڈبلیو ٹی او کے سابق سفیر ڈاکٹر منظور احمد، واشنگٹن ڈی سی کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری اعجاز نبی اور وفاقی سیکریٹری تجارت شامل ہیں۔

ایک ایسے اقدام میں جس نے پاکستان کی معیشت میں ہلچل مچا دی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت تقریباً تمام درآمدات پر 10 فیصد فلیٹ ٹیرف عائد کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان جیسے ممالک کی مصنوعات پر اضافی 29 فیصد جوابی ٹیرف بھی لگا دیا گیا ہے۔ یہ ٹیرف 5 اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوں گے، جبکہ مکمل 39 فیصد ٹیرف 9 اپریل سے لاگو ہوگا۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات، جو امریکہ کو سالانہ 6 ارب ڈالر کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ ہیں، نئے ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کم ہوجائے گی، کیونکہ ان کی قیمتیں اُن ممالک کی مصنوعات سے زیادہ ہوجائیں گی جن پر ٹیرف کم ہیں، جیسے بھارت اور ترکیہ جہاں ٹیرف پاکستان کی نسبت کم ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو ان کی امریکہ فرسٹ پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنا اور ملکی صنعتوں کو فروغ دینا ہے۔ ٹرمپ نے ان ٹیرف کا جواز یہ پیش کیا کہ پاکستان امریکی مصنوعات پر 58 فیصد ٹیرف عائد کرتا رہا ہے۔

یہ اقدام پاکستان کو جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرینسز (جی ایس پی) کے تحت حاصل تجارتی مراعات کی جگہ لے گا، جس کے تحت کچھ مصنوعات پر کم ٹیرف عائد کیا جاتا تھا، اور امکان ہے کہ اس سے برآمدات پر مبنی شعبوں میں روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔

اس کے ردعمل میں پاکستان کی نئی تشکیل شدہ اسٹیئرنگ کمیٹی، جس میں اعلیٰ حکام اور سفارتکار شامل ہیں، امریکہ سے مذاکرات کی نگرانی کرے گی اور نقصان کم کرنے کی کوشش کرے گی۔

اگرچہ کچھ اشیاء جیسے تانبا اور دوا سازی کی مصنوعات ان جوابی ٹیرف سے مستثنیٰ ہیں، لیکن پاکستان کی بیشتر اہم برآمدات، خاص طور پر ٹیکسٹائل، بری طرح متاثر ہوں گی۔

تاہم کچھ صنعت کاروں کا خیال ہے کہ اس کے اثرات اتنے شدید نہیں ہوں گے جتنے کہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، کیونکہ خطے کے دیگر ممالک، جیسے بنگلہ دیش، پہلے ہی زیادہ ٹیرف کا سامنا کررہے ہیں۔

یہ ڈرامائی ٹیرف اضافہ عالمی تجارتی کشیدگی کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ کئی سال تک امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات کا منظرنامہ بدل دے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف