مارکٹس

ٹرمپ کا دو طرفہ ٹیرف: حکومتی نمائندے، اسٹیٹک ہولڈرز ممکنہ حل کیلئے پیر کو ملاقات کریں گے

  • عالمی تجارتی صورتحال میں تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مواقع کا جائزہ لینے کے لئے ورکنگ گروپ تشکیل، جلد فائدہ حاصل کرنے کے لئے حکمت عملی تجویز
شائع April 4, 2025

حکومت نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس 7 اپریل بروز پیر کو طلب کیا ہے جس میں پاکستانی مصنوعات پر امریکہ کی جانب سے دو طرفہ ٹیرف (29) کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

جمعہ کو وزارت تجارت (ٹیکسٹائل ونگ) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر برائے تجارت کی صدارت میں پیر کو اس اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ امریکہ کے دو طرفہ ٹیرف پر بات کی جا سکے۔

وزیر اعظم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے جو امریکی ٹیرف کا جائزہ لے گا اور پاکستان کی برآمدات پر اس کے اثرات کا تجزیہ کرے گا اور امریکی ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تجاویز دے گا۔

الکرم ٹیکسٹائل کے منیجنگ ڈائریکٹر اور پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان کے ساتھ مل کر حالیہ امریکی ٹیرف کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

فواد انور نے کہا کہ ہم (وزیر خزانہ اور برآمد کنندگان خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے سے) نے اس ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد دو طرفہ ٹیرف کے اعلان کے بعد متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔

ورکنگ گروپ اس لیے تشکیل دیا گیا ہے تاکہ وہ امریکی حکام سے بات چیت کر کے دو طرفہ ٹیرف کم کرنے کے راستے تلاش کرے۔

فواد انور نے وضاحت کی کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی خسارے کی بنیاد پر دو طرفہ ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پی ٹی سی کے چیئرمین کے مطابق تجارتی خسارے میں کمی ممکنہ طور پر جوابی ٹیرف کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تجارتی خسارہ 3.7 ارب ڈالر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ تلاش کر رہے ہیں کہ کس طرح امریکی جوابی ٹیرف کو معقول بنایا جائے، جیسے کہ امریکہ سے درآمدات بڑھا کر یا امریکہ کو برآمدات کم کر کے تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔

فواد انور کے مطابق ورکنگ گروپ اس بات کا مطالعہ کر رہا ہے کہ وہ کون سی مصنوعات ہیں جن سے پاکستان امریکہ سے درآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

پاکستان سویا اور کپاس سمیت زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورکنگ گروپ امریکہ سے درآمدات پر ڈیوٹی کم کرنے کے آپشنز پر بھی غور کرے گا تاکہ نئے اعلان کردہ امریکی دوطرفہ محصولات کو کم کیا جاسکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ورکنگ گروپ اپنے نتائج سے آگاہ کرے گا اور دو طرفہ محصولات کو کم کرنے کے لئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اقدامات تجویز کرے گا، امریکہ حکومت پاکستان کے ساتھ اس بات چیت کے لئے تیار ہے۔

فواد انور نے کہا کہ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ جلد از جلد ایک وفد امریکہ بھیجا جائے جو ان دستاویزات کے ساتھ امریکی حکام سے ملاقات کر کے جوابی ٹیرف پر بات چیت کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تجاویزپیر تک اجلاس کیلئے تیار ہوجائیں گی اور اجلاس وزیر تجارت کی صدارت میں منعقد کیا جائے گا۔

ورکنگ گروپ میں 19 ارکان شامل ہیں جو مختلف وزارتوں کے حکام اور برآمد کنندگان پر مشتمل ہیں، جن میں فواد انور، گل احمد کے بشیر علی محمد، سوورٹی ٹیکسٹائلز کے شاہد سورٹی، انٹرلوپ کے مصدق ذوالقرنین، اور پاکستان بزنس کونسل کے سی ای او شامل ہیں۔

Comments

200 حروف