پاکستانی سالٹ مینوفیکچررز نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف میں حالیہ اضافہ ان کے برآمدی کاروبار کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے 180 سے زائد ممالک پر محصولات عائد کر کے عالمی تجارتی منڈی کو شدید دھچکہ لگایا ہے۔
کیا اس سے طویل مدت میں امریکہ کو فائدہ ہوگا یا نہیں اس کا انحصار وسیع تر اقتصادی اور تزویراتی سیاق و سباق پر ہوگا لیکن آج تک اس نے پاکستانی برآمد کنندگان میں خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کردی ہے۔
سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت ٹیکسٹائل، ملبوسات، سرجیکل آلات اور نمک پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ امریکہ جاتا ہے۔
ایس ایم اے پی کے بانی اسماعیل ستار نے کہا کہ اگرچہ نمک کی برآمدات دیگر مصنوعات کے مقابلے میں بہت معمولی ہیں لیکن پھر بھی امریکی مارکیٹ میں اس کا 60 فیصد حصہ ہے۔
ان کا خیال تھا کہ محصولات متعارف کرانے سے امریکہ میں مصنوعات کی کھپت پر بڑے پیمانے پر اثر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی قیمتوں کی مسابقت دیگر برآمد کنندگان کے مقابلے میں کھو دیں گے جس کے نتیجے میں ہمارے مصنوعات کی مانگ میں کمی آئے گی اور بعد میں برآمدات بھی متاثر ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا نقصان ہے جسے ہم اپنے جاری معاشی بحرانوں کے پیش نظر برداشت نہیں کر سکتے۔
ایس ایم اے پی کے بانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقتصادی اور سفارتی اثرات کو کم کرنے کے لیے متعدد حکمت عملی اختیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر ہمیں اس خطرے کا سامنا ہے کہ یورپی یونین بھی امریکی اقدامات کی بنیاد پر پاکستان کے بارے میں اپنی تجارتی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو باہمی فائدے پر زور دیتے ہوئے استثنیٰ یا ٹیرف میں کمی پر بات چیت کے لیے امریکی تجارتی حکام کے ساتھ تمام سفارتی ذرائع کھولنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکی مصنوعات پر 58 فیصد ڈیوٹی اسٹرکچر تیار کیا تھا لیکن اس کا مقصد تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ہماری درآمدات کو کنٹرول کرنا تھا، امریکا کو پاکستانی برآمدی مصنوعات پر 29 فیصد کا جوابی ٹیرف ہمیں برآمدی قدر میں کمی کی وجہ سے بڑے تجارتی خسارے کی صورتحال میں واپس لائے گا۔
ان کا خیال تھا کہ امریکہ کے اچانک فیصلے کا مقصد اپنی پیداوار کو شروع کرنا اور امریکی مینوفیکچرنگ صنعتوں کو بہتر بنانا ہے لیکن یہ اقدام پاکستان کی معیشت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ہمارا ایس ایم ای (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار) سیکٹر برآمدات کی قیادت کر رہا ہے اور وہ پہلے ہی اپنے مقام کو امریکی برآمداتی مارکیٹ میں محفوظ رکھنے کے لیے بہت سے حریفوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
اسماعیل ستار کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے سمندری نمک کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، لیکن یہ ٹیرف سپلائرز کو دوسرے ممالک جیسے آسٹریلیا، چلی، ترکی، یورپی یونین اور اسرائیل کی طرف منتقل کر سکتے ہیں۔
”اس اثر کو کم کرنے کے لئے ہمارے سرکاری عہدیداروں کو فوری طور پر ایک ٹاسک فورس تشکیل دینی چاہئے جو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ ٹیرف کی شرح کو کم از کم 10 فیصد تک کم کیا جاسکے۔“
اسماعیل ستار نے خدشہ ظاہر کیا کہ زیادہ ٹیرف پاکستان کی برآمدی صنعتوں میں ملازمتوں کے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں اور غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اثر کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت اور دفتر خارجہ کو فوری طور پر کارروائی کرنی چاہئے ورنہ ہم معاشی بحران کے کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنستے چلے جائیں گے۔
Comments