ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی اضافہ
**انٹربینک مارکیٹ میں جمعے کے کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 9 پیسے بڑھنے کے بعد روپیہ 280 روپے 47 پیسے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو ڈالر کے مقابلے روپیہ 280.56 پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر امریکی ڈالر کو دوبارہ سنبھلنے میں مشکلات کا سامنا رہا جب کہ محفوظ تصور کیا جانے والا جاپانی ین جمعہ کو 6 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا، کیونکہ تاجر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ اور دور رس نئے ٹیرف اقدامات کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی ڈالر یورو اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں چھ ماہ کی کم ترین سطح سے اوپر آنے کے بعد مستحکم رہا، جب کہ اب توجہ ایک اہم ماہانہ امریکی روزگار رپورٹ پر مرکوز ہے جو بعد میں جاری کی جائے گی، تاکہ معیشت کی حالت اور مالیاتی نرمی کے امکانات کے بارے میں اشارے مل سکیں۔
صدر ٹرمپ کی توقع سے زیادہ سخت ٹیرف پالیسی، جو صرف 24 گھنٹے قبل اعلان کی گئی ہے نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی۔ اسٹاک مارکیٹس شدید مندی کی لپیٹ میں آ گئیں، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے بانڈز اور سونے جیسے محفوظ اثاثوں کا رخ کیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مکمل تجارتی جنگ چھڑ گئی تو یہ عالمی کساد بازاری کو جنم دے سکتی ہے اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
امریکی ڈالر پہلے ہی اس سال دباؤ کا شکار رہا ہے کیونکہ ابتدا میں ٹرمپ کی پالیسی ایجنڈے پر خوشی کا جو ماحول تھا، وہ جلد ہی خدشات میں بدل گیا کہ ان کی تجارتی رکاوٹوں پر مرکوز پالیسییں معاشی جمود کے ساتھ مہنگائی یا حتیٰ کہ امریکی کساد بازاری کا باعث بن سکتی ہیں۔
امریکی ڈالر انڈیکس جمعرات کو 1.9 فیصد گر گیا — جو نومبر 2022 کے بعد سے اس کا بدترین دن تھا۔
گرین بیک (امریکی ڈالر) جمعہ کی ابتدائی ٹریڈنگ میں معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد 0.15 فیصد کمی کے ساتھ 145.89 ین پر آ گیا۔ گزشتہ سیشن میں یہ 2.2 فیصد گر گیا تھا اور اکتوبر 2 کے بعد پہلی بار 145.19 ین تک نیچے آ گیا۔
Comments