ریکارڈ بلندی پر پہنچنے کے بعد 100 انڈیکس معمولی کمی پر بند
- انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران بنچ مارک انڈیکس نے پہلی بار 120,796.67 کی سطح عبور کی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کے روز اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں دن کے اختتام سے قبل دونوں سمتوں میں جھولتا رہا۔
کے ایس ای 100 نے سیشن کا مثبت آغاز کیا اور پہلی بار انٹرا ڈے کی ریکارڈ 120,796.67 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
تاہم بعد ازاں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس نے انڈیکس کو انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 118,718.26 تک پہنچا دیا۔
اختتام پر بنچ مارک انڈیکس 146.45 پوائنٹس یا 0.12 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 118,791.66 پر بند ہوا۔
اس سے قبل انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز اور ریفائنریز سمیت اہم شعبوں میں زبردست خریداری دلچسپی دیکھی گئی۔ اے آر ایل، این آر ایل، ایم اے آر آئی، پی پی ایل، ڈی جی کے سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل سمیت انڈیکس ہیوی اسٹاکس میں مثبت کاروبار ہوا۔
یہ تیزی حکومت کی جانب سے مہنگائی سے تنگ عوام کو نمایاں ریلیف فراہم کرنے کے اقدام کے بعد دیکھی گئی۔ جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے رہائشی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا تھا جبکہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کی گئی تھی۔
وزیراعظم نے یہ بھی وعدہ کیا کہ جیسے جیسے معیشت بہتری کی جانب بڑھے گی، بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے بجلی کے نرخ کم کروانے پر ان کی ٹیم کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو قائل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں مندی کے باوجود پی ایس ایکس نے 120 ہزار کی نئی بلندی عبور کرلی ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی اور سرکلر ڈیٹ کے حل کی یقین دہانی کے بعد بہتر منافع کی توقعات پیدا ہوئی ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا اطمینان کا اظہار
وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے ایکویٹیز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایکس میں کاروبار کی مثبت رفتار حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تاجروں اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے جس سے نہ صرف گھریلو صارفین کو ریلیف ملے گا بلکہ یہ کاروباری برادری اور صنعتوں کے لیے بھی خوش آئند پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے مثبت ماحول پیدا کرنے کے لئے تمام سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دے رہی ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو پی ایس ایکس میں بھرپور خریداری کا رجحان رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 118,938 کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جاپانی اسٹاکس جمعہ کو گزشتہ اگست کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر آ گئے اور وہ پانچ سال میں اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کی جانب بڑھ رہے ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد عالمی کساد بازاری کے خدشات نے منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
نکی انڈیکس 3.6 فیصد کمی کے ساتھ 33,474.56 پر بند ہوا اور اگر مارکیٹ اسی طرح چلتی رہی تو تقریباً 10 فیصد ہفتہ وار کمی واقع ہونے کا امکان ہے ۔
وسیع تر ٹوپکس انڈیکس 4.6 فیصد کمی کے ساتھ 2,448.94 پر آ گیا اور یہ ہفتہ وار بنیاد پر 11 فیصد کمی کی طرف بڑھ رہا ہے، دونوں انڈیکس مارچ 2020 کے بعد سے اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کی جانب گامزن ہیں۔
یہ شدید مندی اُس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے واشنگٹن کی جانب سے 100 سال میں سب سے زیادہ سخت تجارتی رکاوٹوں کا اعلان کیا، جس کے بعد سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف دوڑ پڑے، جن میں جاپانی ین بھی شامل ہے، جس نے جاپانی اسٹاکس پر مزید دباؤ ڈال دیا۔
بینکنگ حصص کی جانب سے اس بحران کی قیادت کی گئی کیونکہ ٹیرف اور ان کے ممکنہ معاشی اثرات نے یہ قیاس آرائیاں بڑھا دیں کہ بینک آف جاپان کو شرح سود میں اضافہ مؤخر کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے
Comments