سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی ساہو نے کہا ہے کہ کپاس کی کاشت کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کپاس کی جلد بوائی کی مہم شروع کی گئی جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان میں جاری کپاس کی کاشت مہم کے حوالے سے اعلیٰ سطح ی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مگسی،ایڈیشنل سیکرٹری زراعت ٹاسک فورس پنجاب شبیر احمد خان، نیشنل سیڈ اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر آصف علی، ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد رجوانہ، ڈائریکٹر جنرل زراعت پنجاب چوہدری عبدالحمید، نوید عصمت کاہلوں، عبدالقیوم، ڈاکٹر عامر رسول، ڈاکٹر ساجد الرحمن۔ محکمہ زراعت پنجاب کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر محمد انجم علی، کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر، کپاس کے ماہر، ڈاکٹر محمد اقبال بندیشا اور محکمہ زراعت اور آبپاشی کے افسران نے شرکت کی۔

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی ساہو نے مزید کہا کہ کپاس کی بحالی کی خصوصی مہم کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں کپاس کی بوائی کا مقررہ ہدف 80 فیصد سے زائد حاصل کر لیا گیا ہے اور اگر یہ رفتار جاری رہی تو اگلے دو سے تین دن میں ہدف تقریبا پورا ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سیزن میں پنجاب میں 35 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کپاس کی کاشت کی جائے گی۔ کپاس کی بوائی اور پیداواری اہداف کی تکمیل کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب نے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی بوائی کا دوسرا مرحلہ 30 اپریل تک جاری رہے گا۔ محکمہ زراعت اور کاشتکار دونوں کاشت کاری کے اہداف کے حصول کے لئے پرعزم ہیں۔ بازاروں میں معیاری زرعی انپٹس کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ جاری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف