وزیر اعظم شہباز شریف نے کپاس کی پیداوار میں ملک کے بحران سے نمٹنے میں ناکامی پر دو اہم زرعی تحقیقی اداروں کے سربراہان کو معطل کر دیا ہے ، پیداوار میں کمی ملکی زرعی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
وزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی اور پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی) کے نائب صدر ڈاکٹر یوسف ظفر کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں تنظیموں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ کپاس پر کوئی بامعنی تحقیق کرنے میں ناکام رہے ہیں، حالانکہ پاکستان میں کپاس کی صنعت تقریبا ایک دہائی سے زوال کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے یہ اقدام کپاس کی پیداوار میں کمی سے نمٹنے میں جدت طرازی کے فقدان کی متعدد شکایات کے بعد اٹھایا گیا، بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ابھرتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے کپاس کی کوئی نئی قسم کیوں تیار نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں سے پی اے آر سی اور پی سی سی دونوں ے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ ملک میں کپاس کی پیداوار 13-2012 میں ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے کم ہو کر رواں مالی سال 25-2024 میں 50 لاکھ گانٹھ رہ گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے میں ناکامی کے بارے میں متعدد شکایات سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم کی مایوسی میں اضافہ ہوا۔
پی اے آر سی کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’یہ شرمندگی کی بات ہے۔ ایک ایسی قوم کے لیے جو کبھی دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہونے پر فخر کرتی تھی، اس سطح کی غفلت ناقابل معافی ہے۔
آخری جھٹکا اس وقت لگا جب وزیر اعظم کو پتہ چلا کہ گزشتہ ایک دہائی سے کپاس پر کوئی تحقیق نہیں کی گئی ہے اور پی اے آر سی کو مبینہ طور پر کوئی کارروائی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
دریں اثنا، پی سی کاٹن سیس کی عدم موجودگی کی وجہ سے ضروری تحقیق کرنے میں بھی ناکام رہا ۔
اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم آفس کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کپاس کی نئی اقسام کی کمی کے بارے میں متعدد فوری شکایات موصول ہوئیں جو ملک بھر میں فصلوں کو تباہ کرنے والا ایک اہم عنصر ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کے دفتر میں زرعی برادری کی جانب سے احتجاجی آوازوں کی بھرمار ہے، جس میں خرابی کو ٹھیک کرنے کے لئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کی آخری کوشش میں ایک اعلی ٰ سطحی اجلاس طلب کیا گیا تھا – لیکن ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ اجتماع بے ترتیبی میں ختم ہوا اور کپاس کی تباہی سے نمٹنے کے لئے کوئی ایکشن پلان نہیں تھا۔
ملک کی کپاس کی صنعت کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے، اب سب کی نظریں وزیر اعظم کے اگلے اقدام پر ہیں۔
کیا یہ ہائی پروفائل برطرفیاں ملک کے کپاس کے شعبے کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہیں؟ یا یہ بڑھتی ہوئی قومی آفت کے سامنے سیاسی دکھاوے کی ایک اور مثال ہے؟ ایک بات واضح ہے - وقت گزر رہا ہے، اور حل کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے.
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments