امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت 185 سے زائد ممالک اور خطوں پر بھاری درآمدی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پاکستان پر 29 فیصد، بھارت پر 26 فیصد اور چین پر 34 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ کئی ممالک امریکی درآمدات پر بھاری محصولات لگاتے ہیں، اس لیے امریکہ بھی ”تقریباً مساوی“ ٹیکس عائد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی درآمدات پر 58 فیصد تک محصولات لگاتا ہے، اس لیے 29 فیصد ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں بنگلہ دیش پر 37 فیصد، سری لنکا پر 44 فیصد، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان پر 10 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔ یورپی یونین پر 20 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے جبکہ گاڑیوں پر اضافی 25 فیصد ٹیکس ہوگا۔

ٹرمپ نے کہا کہ تجارتی خسارہ قومی ایمرجنسی بن چکا ہے اور امریکہ کو سب سے پہلے رکھنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض دوست ممالک تجارتی لحاظ سے دشمنوں سے بھی بدتر ہیں۔

ٹیکسوں کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ جاپان اور آسٹریلیا نے فیصلے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں شدید مندی دیکھی گئی، جبکہ ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج 4 فیصد گر گئی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اب گلوبلزم کے بجائے اپنی معیشت کو اولین ترجیح دے گا اور ان محصولات سے امریکی صنعت کو مضبوط کیا جائے گا۔

Comments

200 حروف