وزیراعظم کا بجلی کے نرخوں میں بڑی کمی کا اعلان
- گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 7.41 روپے جبکہ صنعتی صارفین کیلئے 7.69 روپے کمی کر دی گئی۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز مہنگائی کے مارے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے اعلان کیا کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 7.41 روپے جبکہ صنعتی صارفین کے لیے فی یونٹ 7.69 روپے کمی کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید وعدہ کیا کہ جیسے جیسے معیشت بہتری کی جانب بڑھے گی، بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بجلی کی قیمتوں میں کمی پر راضی کرنا ایک مشکل اور محنت طلب عمل تھا۔
وزیراعظم نے یہ اعلان ایک خصوصی تقریب میں کیا جس میں وفاقی وزراء اور بڑے صنعتکار شریک تھے۔ یہ اعلان ایک ماہ بعد سامنے آیا جب حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی درخواست کی تھی، درخواست آئی ایم ایف کی طرف سے فی کلو واٹ ایک روپے کی منظوری کے بعد کی گئی تھی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی ترقی سستی بجلی کے بغیر ممکن نہیں، اور یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں بلکہ ایک مشکل مرحلہ تھا جس کے لیے سخت محنت کی گئی۔
شہباز شریف نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ نظرِ ثانی شدہ معاہدوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں قومی خزانے کو 3,696 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ رقم آئی پی پیز کو ادا کی جانی تھی، اور اس کے ساتھ ساتھ گردشی قرضے پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، جسے پانچ سال کے اندر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، بشرطیکہ رویوں میں تبدیلی آئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہیں آئی پی پیز سے کوئی شکایت نہیں، لیکن عوامی مفاد کے لیے ان سے مذاکرات کیے۔ آئی پی پیز نے بڑے منافع کمائے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ قوم کو کچھ واپس دیں۔
انہوں نے بتایا کہ گردشی قرضے کی مد میں 2,393 ارب روپے کے مسئلے کا طویل مدتی حل نکالا گیا ہے، اور اب یہ قرضہ مستقل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
بجلی کی قیمتوں میں کمی کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جون 2024 میں جو فی یونٹ ریٹ 58.35 روپے تھا، اسے کم کر کے 48.19 روپے کر دیا گیا ہے، جس سے فی یونٹ 10.3 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کمی سے عوام کو ریلیف ملے گا اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم نے بجلی چوری کے سنگین مسئلے کی بھی نشاندہی کی، جس سے سالانہ 600 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نقصان کا بوجھ زیادہ تر غریبوں، بیواؤں اور یتیموں پر پڑتا ہے، اس لیے بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر عوام پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے وزیراعظم نے اصلاحات کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات معیشت کی بہتری اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پارٹی کے منشور میں کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب ان کی حکومت آئی تو آئی ایم ایف بات چیت کے لیے تیار نہ تھا اور حالات نازک تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”ابتدا میں آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، لیکن ہم نے موقف اختیار کیا کہ پٹرول کی قیمتوں کے بجائے بجلی میں ریلیف دیا جائے۔“
وزیراعظم نے کہا کہ معیشت اب آہستہ آہستہ بہتری کی طرف گامزن ہے، اور اس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر شاہ اور ان کے ساتھیوں کی حمایت کا اہم کردار رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پالیسی ریٹ جو پہلے 22.5 فیصد تھا، اب کم ہو کر 12 فیصد ہو گیا ہے، جس سے کاروباری طبقے کو بڑا ریلیف ملا ہے، اور مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں بھی 38 روپے کی کمی کی ہے، جو کہ پورے خطے میں سب سے کم ہے۔
انہوں نے جلد ہی صنعتکاروں سے ملاقات کا اعلان کیا تاکہ معیشت کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور کہا کہ معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ساختی اصلاحات ناگزیر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت اب مایوسی سے نکل کر امید کی طرف گامزن ہے، تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سبسڈیز فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کی ترقی کا براہ راست تعلق بجلی کی قیمتوں سے ہے، اور جب تک توانائی کی لاگت میں کمی نہیں کی جائے گی، صنعت، تجارت اور زراعت میں ترقی ممکن نہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے اور ان کے حجم کو محدود کرنے جیسے مشکل مگر ضروری فیصلے اب ناگزیر ہو چکے ہیں، کیونکہ ان غیر منافع بخش اداروں کی وجہ سے حکومت کو 800 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس سال حکومت پچھلے سال کی نسبت 35 فیصد زیادہ ٹیکس وصول کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments