امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے سے جمعرات کو عالمی تجارت کو دھچکا لگا جس سے دنیا بھر کی صنعتوں میں تشویش پیدا ہوگئی۔ تاہم پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے یہ ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک بہترین موقع بھی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر سے درآمدات پر نئے محصولات اور پاکستان سمیت اہم تجارتی شراکت داروں پر سخت اضافی محصولات کا اعلان کرتے ہوئے ممکنہ طور پر تباہ کن تجارتی جنگ چھیڑدی ہے۔

تجزیہ کاروں اور صنعت کے ماہرین کے مطابق پاکستان امریکی مارکیٹ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے تیار ہے، پاکستان ممکنہ طور پر برآمدات میں اضافہ اور عالمی ٹیکسٹائل صنعت میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرے گا کیونکہ پاکستان اب بھی چین، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے اہم حریفوں پر لاگت کے مقابلے میں سبقت رکھتا ہے۔

ٹیکسٹائل مینوفیکچرر اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے سابق چیف ایگزیکٹو محمد زبیر موتی والا نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں سے درآمدات پر دوطرفہ ٹیرف کے نفاذ کے تناظر میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات امریکہ میں بڑھ جائیں گی کیوں کہ یہ واحد سب سے بڑی منزل ہے۔

امریکہ نے پاکستان کے مقابلے میں کئی حریف ممالک پر کہیں زیادہ ٹیرف عائد کیے ہیں: چین پر 34 فیصد، بنگلہ دیش پر 37، ویتنام پر 46 اور کمبوڈیا پر 49 فیصد ٹیرف لگائے گئے ہیں جبکہ پاکستان کی مصنوعات پر ٹرمپ نے 29 فیصد کا نسبتاً کم ٹیرف عائد کیا۔

 ۔
۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ اس کے مطابق دنیا بھر میں نئے ٹیرف کا اثر پاکستانی برآمدات پر مثبت ہونا چاہیے، خاص طور پر امریکہ کو ہونے والی ٹیکسٹائل برآمدات پر، کیونکہ ان پر ٹیرف پاکستان کے حریف ممالک کے مقابلے میں کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کے امکانات ہیں کہ پاکستان کو نئے ٹیکسٹائل برآمدی آرڈرز ملیں گے، کیونکہ امریکی خریدار ان ممالک سے اپنی درآمدات میں کمی کریں گے جن پر زیادہ ٹیرف لگائے گئے ہیں اور وہ اپنے درآمدی آرڈرز کو پاکستان جیسے سستے ممالک کی طرف موڑ دیں گے۔

ٹی ڈی اے پی کے سابق عہدیدار نے مزید کہا کہ بھارت واحد ملک ہے جس پر پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد کے مقابلے میں 26 فیصد کم ٹیرف لگایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکہ پاکستان کا واحد سب سے بڑا ٹیکسٹائل برآمدی مقام ہے۔ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا حصہ اوسطا 60 فیصد ہے۔

ٹریڈ میپ کے ڈیٹا کے مطابق امریکہ نے 2024 میں 3.36 ٹریلین ڈالر مالیت کی درآمدات کیں جو سالانہ 6 فیصد اضافہ ہے۔ ممالک کے حوالے سے میکسیکو کا حصہ امریکہ کی مجموعی درآمدات میں سب سے زیادہ 15 فیصد تھا اس کے بعد چین، کینیڈا، جرمنی اور جاپان کا حصہ 5-14 فیصد کے درمیان تھا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ 2024 میں پاکستان کا حصہ صرف 0.16 فیصد تھا جبکہ ویتنام، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت جیسے ممالک کا حصہ بالترتیب 4.2 فیصد، 0.26 فیصد، 0.09 فیصد اور 2.7 فیصد تھا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکہ میں پاکستان سے درآمدات کل امریکی درآمدات کا صرف 0.16 فیصد ہیں تاہم یہ تعداد پاکستان کے نقطہ نظر سے کافی اہم ہے۔ پاکستان کی جانب سے امریکہ کو سالانہ 6 ارب ڈالر کی برآمدات کی جاتی ہیں جو ملکی برآمدات کا 18 فیصد ہے۔

امریکہ کو کی جانے والی برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ ٹیکسٹائل کا ہی ہے جو 75 سے 80 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ دیگر برآمدات میں چمڑا، جراحی کے سامان، چاول، سیمنٹ، اسٹیل مصنوعات، نمک وغیرہ شامل ہیں۔

دریں اثنا کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے سابق صدر اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹر جاوید بلوانی نے کہا کہ نئے ٹیرف کا اطلاق 9 اپریل 2025 سے ہوگا۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ امریکی تاجروں نے مقامی برآمد کنندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان سے آنے والی اپنی درآمدات پر نئی اضافی لاگت کا 50 فیصد برداشت کریں۔

بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے بعد ٹیکسٹائل، فوڈ، سیمنٹ اور دیگر صنعتوں پر دباؤ محسوس ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیرف کے اس طوفان کے باوجود پاکستان کے پاس چیلنج کو موقع میں تبدیل کرنے کا ایک انوکھا موقع ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ محصولات برآمدی مسابقت کو کم کرسکتے ہیں اور غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی کو متاثر کرسکتے ہیں ، لیکن پاکستان اب بھی چین ، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے اہم حریفوں پر لاگت میں برتری رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو باہمی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں توانائی کی لاگت میں کمی، ٹیرف میں ریلیف پر بات چیت اور اثرات کو کم کرنے کے لیے تجارتی منڈیوں کو متنوع بنانا شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اس پر اچھی طرح عمل کیا جائے تو یہ چیلنج ایک موقع میں تبدیل ہوسکتا ہے جس سے پاکستان کو نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے، تجارتی راستوں کو وسعت دینے اور ترقی پذیر عالمی سپلائی چین میں خود کو دوبارہ قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Comments

200 حروف