وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مجوزہ مروٹ کینال کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) موجود ہے یہ کینال یہ کبھی تعمیر نہیں ہوگی۔

گڑھی خدا بخش میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ نہر کیسے تعمیر کی جاسکتی ہے کیوں کہ اسے منظوری ہی نہیں ملی ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک پیپلز پارٹی موجود ہے نہر نہیں بنے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ سیاسی جماعتیں نہر کی مخالفت کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔

صوبائی وزراء سعید غنی اور ناصر شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

واضح رہے کہ مروٹ کینال ایک مجوزہ منصوبہ ہے جو دریائے ستلج پر سلیمانکی بیراج سے صحرائے چولستان میں فورٹ عباس تک پھیلی ہوئی ہے۔

مراد علی شاہ نے وضاحت کی کہ جولائی میں صرف ابتدائی طور پر چند سو فٹ کی جگہ کی جانچ پڑتال کی گئی تھی اور یہ تعمیرات کا آغاز نہیں تھا

انہوں نے کینال منصوبے کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے پر بعض نیوز چینلز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریں۔

سندھ کے مفادات کے تناظر میں پیپلز پارٹی کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پارٹی صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف ماضی میں لگائے گئے الزامات کا ذکر کیا جن میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے متنازعہ کالا باغ ڈیم کے لیے فنڈز مختص کیے تھے جو کہ درست ثابت نہیں ہوئے۔

مراد علی شاہ نے آئین کے مطابق پانی سے متعلق امور پر صوبوں سے مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کینال منصوبے پر تبادلہ خیال کے لئے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس کے لئے متعدد درخواستوں کے باوجود وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے سے بچ نہیں سکتے، آئین میں پانی کے معاملات پر صوبائی مشاورت کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے چولستان کینال منصوبے کے لیے پنجاب کی 8 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی درخواست منظور کرلی ہے، اس فیصلے کی سندھ میں شدید مخالفت ہوئی ہے اور ان کی حکومت نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ 1976 سے 2022 کے تاریخی اعداد و شمار کی بنیاد پر پنجاب کا استدلال ہے کہ کوٹری بیراج میں سالانہ اوسطا 27 ملین ایکڑ فٹ پانی بہہ جاتا ہے جبکہ سرکاری طور پر درکار ماحولیاتی بہاؤ 8.5 ملین ایکڑ فٹ ہے جو 10 ملین ایکڑ فٹ ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس، سندھ کا کہنا ہے کہ کم از کم 20.5 ملین ایکڑ فٹ پانی ضروری ہے تاکہ سمندری پانی کا دخول روکا جا سکے اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی سطح پر پانی کی موجودہ قلت 11 ملین ایکڑ فٹ اور صرف 8 ملین ایکڑ فٹ پانی ہی موجودہ وقت میں بحیرہ عرب تک پہنچ رہا ہے، جبکہ پنجاب کا دعویٰ ہے کہ 7 ملین ایکڑ فٹ پانی اضافی ہے، جس سے اس کی مانگ کو جواز ملتا ہے۔

تاہم سندھ حکومت نے اپنے آبی وسائل کی ممکنہ کمی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ مزید تبدیلیاں اس کے زرعی علاقوں میں پانی کی قلت کو بڑھا سکتی ہیں اور ڈیلٹا کا نازک ماحولیاتی نظام خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے سیاسی منظر نامے پر خطاب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کی حمایت پر انحصار کرتی ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی (ایم این ایز) کے بغیر حکومت گر سکتی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر نہر کا منصوبہ سندھ کی رضامندی کے بغیر آگے بڑھا تو پیپلز پارٹی اپنی حمایت واپس لے سکتی ہے۔

مراد علی شاہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ مروٹ کینال منصوبے کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کریں، وفاقی اور سندھ حکومتوں نے سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) میں اس کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے صوبائی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا اور ایسے اقدامات سے خبردار کیا جو بین الصوبائی تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

زرعی خدشات کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت رواں سال گندم کی قیمتوں کا تعین نہیں کرے گی بلکہ مارکیٹ کے عوامل کو قیمتوں کا تعین کرنے کی اجازت دے گی۔

تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے کو یقینی بنانے کے لئے ایک اسکیم تیار کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے مروٹ نہر منصوبے کے خلاف اپنی حکومت کا پختہ موقف دوبارہ دہرایا اور آئینی دفعات، صوبائی مشاورت کی ضرورت اور اتفاق رائے کے بغیر آگے بڑھنے کے ممکنہ سیاسی نتائج سے خبردار کیا۔

Comments

200 حروف