الغازی ٹریکٹرز پاکستان کے سی ای او ثاقب الطاف نے ملک کی ٹریکٹر انڈسٹری میں تباہ کن گراوٹ کو اجاگر کیا ہے جس کی فروخت 8 سال کی اوسط سے 63 فیصد کم ہے۔

بزنس ریکارڈر کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ثاقب الطاف نے اس بحران کو معاشی عدم استحکام، ناقابلِ برداشت ٹیکسیشن، اور مربوط زرعی میکانائزیشن حکمت عملی کے فقدان سے جوڑا اور پاکستان کی زرعی معیشت پر سنگین اثرات سے خبردار کیا۔

الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ جس میں دبئی کے الفطیم گروپ کا 50 فیصد اور عالمی زرعی مشینری کمپنی کیس نیو ہالینڈ کا 43 فیصد حصہ ہے، پاکستان کی دو بڑی ٹریکٹر ساز کمپنیوں میں شامل ہے اور ملک کے زرعی شعبے کی جدید کاری میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

الطاف نے اس شعبے کے وسیع تر اثرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زراعت پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 20 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مینوفیکچرنگ کے علاوہ ہم 230 مقامی وینڈرز کے ایکو سسٹم کو برقرار رکھتے ہیں جہاں 30 ہزار ہنر مند افراد کام کرتے ہیں۔ اس صنعت کی سپلائی چین کے ذریعے تقریباً 3 لاکھ افراد کا روزگار بھی اس سے جڑا ہوا ہے۔

حالیہ مہینوں میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ٹریکٹروں کی فروخت روایتی طور پر عروج کے مہینوں میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ثاقب الطاف نے کہا کہ جنوری اور فروری 2025 میں فروخت اپنی کم ترین سطح پر رہی جو پچھلے سال کے مقابلے میں 43 فیصد کم ہے، اگر پنجاب کے گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت تاخیر سے ہونے والی ڈلیوریز کو ایڈجسٹ کیا جائے تو حقیقی کمی 63 فیصد بنتی ہے۔

الطاف نے انکشاف کیا کہ اس بحران کی بڑی وجوہات کسانوں کی کم ہوتی آمدنی اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نازک وقت میں صنعت کو استحکام درکار ہے، نہ کہ قلیل مدتی اقدامات جو مستقبل میں مزید جھٹکے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اہم صنعتی اسٹیک ہولڈرز مالیاتی اصلاحات پر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔

پاکستان میں زرعی میکانائزیشن کی سطح عالمی معیار سے کہیں پیچھے ہے، جہاں فی ایکڑ صرف 0.8 سے 0.9 ہارس پاور دستیاب ہے، جبکہ ایف اے او کا تجویز کردہ معیار 1.4 ہارس پاور ہے۔ الطاف نے معاشی عدم استحکام، موسمیاتی خطرات اور پالیسی خلا کو بنیادی رکاوٹیں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میکانائزیشن صرف ٹریکٹرز تک محدود نہیں بلکہ یہ پیداواری صلاحیت میں انقلابی تبدیلی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے قلیل مدتی حل کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے پالیسی سازوں، صنعت کاروں اور مالیاتی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

الطاف نے پنجاب کے گرین ٹریکٹر اسکیم کو کسانوں کے لیے ایک اہم سہولت قرار دیتے ہوئے سراہا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کو بہتر منصوبہ بندی اور درست وقت پر متعارف کرایا جانا چاہیے تاکہ میکانائزیشن کو فروغ دیا جا سکے، نہ کہ موجودہ مارکیٹ کی طلب کو متاثر کیا جائے۔

انہوں نے ٹریکٹرز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا، جو اب کم از کم 25 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کو کسانوں کی آمدنی کے مطابق لچکدار فنانسنگ حل فراہم کرنا چاہیے، خاص طور پر جب شرح سود میں کمی ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کو قرضوں تک آسان رسائی دی جائے، چاہے ان کا مالیاتی ریکارڈ رسمی نہ بھی ہو۔

الغازی ٹریکٹرز زراعت کو جدید بنانے کے لیے تکنیکی جدت پر زور دے رہا ہے جس میں حال ہی میں لانچ کیا گیا ہائی کیپیسٹی این ایچ 850 ٹریکٹر اور جی پی ایس سے لیس خودکار ماڈلز پر غور شامل ہے۔ ثاقب الطاف نے کہا کہ اسمارٹ ٹیکنالوجی جیسے کہ فصلوں کی نگرانی، سروے اور ہدفی اسپرے کے لیے ڈرونز پیداوار میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے پالیسی معاونت اور سرمایہ کاری ضروری ہے۔

ایک قومی میکانائزیشن پالیسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ثاقب الطاف نے خبردار کیا کہ قلیل مدتی مداخلتیں اس شعبے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صنعت پاکستان کی زرعی ویلیو چین کا ستون ہے۔ بغیر حکمت عملی کے وژن کے، ہم غذائی تحفظ اور لاکھوں افراد کی روزگار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔“ اقتصادی دباؤ کے بڑھنے کے ساتھ، صنعت کے رہنماؤں نے اس شعبے کو بحال کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے جو قوم کی بقا کے لیے ضروری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف