کاروبار اور معیشت

بجلی کی قیمتوں میں کمی پر سرمایہ کار پر جوش، کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں عید الفطر کی تعطیلات کے بعد منفی رجحان دیکھا جارہا ہے جس کی بنیادی وجہ...
شائع April 3, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 180 سے زائد ممالک پر عائد کیے گئے وسیع تجارتی ٹیرف کے ابتدائی خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) مثبت رحجان کی شاندار انداز میں واپسی ہوئی ہے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو 118,938 کے تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

عید کی تعطیلات کے بعد تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے پر بینچ مارک انڈیکس میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ابتدائی گھنٹوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے ٹرمپ کے محصولات کے اثرات کا جائزہ لیا جس سے انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 117،508.07 پوائنٹس تک گر گیا۔

تاہم بعد ازاں حکومت کی جانب سے صارفین اور صنعتوں کی مدد کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کے اعلان کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔ اس مثبت پیش رفت نے انڈیکس کو انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 119,179.45 پوائنٹس تک پہنچا دیا۔

کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 1,131.37 پوائنٹس یا 0.96 فیصد اضافے کے ساتھ 118,938.11 کی سطح پر بند ہوا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو دنیا بھر سے درآمدات پر 10 فیصد محصولات اور اہم تجارتی شراکت داروں پر سخت اضافی محصولات عائد کرکے ممکنہ طور پر تباہ کن تجارتی جنگ کو ہوا دی ہے ۔

وائٹ ہاؤس روز گارڈن میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے چین اور یورپی یونین پر سخت ٹیرف کا اعلان کیا جسے انہوں نے یوم آزادی قرار دیا۔

ٹرمپ کے ٹیرف نے فوری طور پر غصے کو جنم دیا، امریکی اتحادی آسٹریلیا نے انہیں غیر ضروری قرار دیا اور اٹلی نے انہیں غلط کہا جبکہ دیگر ممالک نے پہلے ہی جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ دہائیوں سے ہمارا ملک اندرونی اور بیرونی، دوست اور دشمن دونوں طرف سے لوٹا گیا، برباد کیا گیا اور استحصال کا شکار ہوا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ نے پاکستان پر بھی 29 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پی ایس ایکس پرافٹ ٹیکنگ کے باعث منفی زون میں بند ہوا۔

بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیادوں پر 635 پوائنٹس یا 0.05 فیصد کی کمی سے 117807 پوائنٹس پر بند ہوا تھا ۔

بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو اسٹاکز میں شدید کمی آئی اور سرمایہ کاروں نے بانڈز، سونا اور ین کی طرف رخ کیا، کیونکہ انہیں تشویش تھی کہ نئے امریکی ٹیرف نے تجارتی جنگ کو مزید بڑھا دیا ہے، جو دنیا کو کساد بازاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔

ڈالر چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، کیونکہ امریکی بانڈ ییلڈز کے ساتھ ساتھ اس میں کمی آئی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے ٹیرف عائد کیے جنہوں نے درآمدی ٹیکس کو ایک صدی کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔

نیسڈک فیوچرز 3.2 فیصد تک گر گئے، یورپی فیوچرز میں تقریباً 2 فیصد کی کمی آئی اور ٹوکیو میں نکی انڈیکس 3 فیصد نیچے آیا، جو آٹھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں ایشیا بھر میں بھاری نقصانات ہوئے۔

ایپل کی مارکیٹ کی سرمایہ کاری 240 ارب ڈالر سے زائد کم ہوگئی جب اس کے شیئرز آفٹر ہاؤرز ٹریڈ میں 7 فیصد تک گر گئے۔ نِوِڈیا کی مارکیٹ کی سرمایہ کاری 5.6 فیصد یا 153 ارب ڈالر کم ہوگئی۔

بینچ مارک 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈز 15 بیسس پوائنٹس سے زیادہ گر کر پانچ ماہ کی کم ترین سطح 4.04 فیصد پر پہنچ گئیں، اور مارکیٹس نے سود کی شرح میں کٹوتی کے امکانات کو بڑھا دیا، حالانکہ ٹیرف کی وجہ سے امریکی افراط زر میں تیز اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

Comments

200 حروف