یہ بات کافی عرصے سے واضح ہے کہ پاکستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جو ایسے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے جو اس کی مسابقت اور پائیداری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے حال ہی میں کسٹم ڈیوٹی میں جلد بازی میں کمی کی تجاویز پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدامات اگرچہ قلیل مدتی طور پر فائدہ مند نظر آتے ہیں لیکن یہ ہمارے صنعتی شعبے میں موجود بنیادی مسائل کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

پی بی سی نے زور دیا ہے کہ ہمارے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی مشکلات کی اصل وجوہات صرف ٹیرف ڈھانچوں تک محدود نہیں ہیں۔ بلند توانائی کی قیمتیں، طویل مدتی مالیاتی وسائل تک محدود رسائی، زیادہ قرضوں کی شرح، بڑے سرمائے کے منصوبوں کے لیے زرمبادلہ کی کمی، دوبارہ سرمایہ کاری میں رکاوٹ ڈالنے والی بھاری ٹیکس پالیساں، کم پیداواری صلاحیت، ناکافی انفرااسٹرکچر اور سیکیورٹی کے چیلنجز مل کر پاکستانی مینوفیکچررز کی مسابقت کو متاثر کرتے ہیں۔

ان مختلف چیلنجز کی روشنی میں پی بی سی کی جانب سے وزارت تجارت، خزانہ اور توانائی کے درمیان مشترکہ نقطہ نظر اپنانے کا مطالبہ بروقت اور ناگزیر ہے۔ اگر حکومت ان مسائل کو مشترکہ پالیسی سازی کے ذریعے حل کرے تو یہ صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے ایک بہتر ماحول فراہم کرسکتی ہے۔

وزارتِ تجارت کا اسٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2020-25 کا مقصد قوانین کو ہم آہنگ کرنا اور نجی شعبے کی حمایت کرنا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تجارت کو بڑھانے اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مربوط حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔

مزید برآں، پی بی سی ایسی صنعتی پالیسی کی حمایت کرتا ہے جو درآمدی متبادل کو فروغ دے، تاکہ اسے برآمدات میں شامل کیا جا سکے۔

تاہم، پی بی سی خبردار کرتا ہے کہ درآمدی متبادل کو مقامی صنعتوں کو غیر معینہ مدت تک عالمی مسابقت سے بچانے کے جواز کے طور پر استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ یہ ملکی اور بین الاقوامی مسابقت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایسے صنعتوں کے لیے سنسیٹ کلازز کا نفاذ ضروری ہے جو اس وقت عالمی مسابقت سے محفوظ ہیں، تاکہ تحفظ پسندی ایک مستقل سہارا نہ بن جائے۔

یہ بہت حساس مسائل ہیں اور انہیں مقامی کے ساتھ ساتھ علاقائی/عالمی تناظر میں بھی مناسب طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، یہ بات مدنظر رکھی جانی چاہیے کہ پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو درپیش چیلنجز توانائی کے بحران سے مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔

ملک کا مہنگی، اکثر درآمد شدہ توانائی کے ذرائع پر انحصار کرنے کے باعث بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں جس سے مینوفیکچرنگ آپریشنز مہنگے اور غیرمسابقتی ہوگئے ہیں۔

کاروباری ادارے ان اخراجات کو کم کرنے کیلئے تیزی سے متبادل حل کا رخ کررہے ہیں، جیسے کہ سولر پینلز نصب کرنا، اگرچہ یہ تبدیلی لچک کو ظاہر کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ توانائی کے جامع اصلاحات کی فوری ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے تاکہ صنعتوں کو سستی اور قابل اعتماد بجلی فراہم کی جاسکے۔

اس کے علاوہ پاکستان کا بین الاقوامی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف کے ساتھ تعلق اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ساختی اصلاحات کا نفاذ بہت ضروری ہے۔

بحث کا مرکز ٹیکسٹیشن، توانائی کے شعبے کی بہتری، نقصان اٹھانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری، اور عوامی مالیات کے انتظام پر تھا۔ یہ اصلاحات نہ صرف مالی امداد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ ایک مضبوط اقتصادی بنیاد قائم کرنے کے لیے بھی اہم ہیں جو صنعتی مسابقت کو سپورٹ کرے۔

پی بی سی کے خدشات پالیسی سازوں کے لیے اہم پیغام ہیں کہ وہ پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو بحال کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی اختیار کریں۔

یہ ضروری ہے کہ وزارتِ تجارت، خزانہ اور توانائی مؤثر طریقے سے تعاون کریں تاکہ صنعتی مسابقت میں رکاوٹ ڈالنے والی مشکلات کو ختم کیا جا سکے۔ ساختی نااہلیوں کو دور کرکے، توانائی کی پالیسیوں میں اصلاحات کر کے اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کر کے پاکستان ایک مضبوط اور کامیاب مینوفیکچرنگ صنعت کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے جو اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف