توقع ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آج جمعرات (3 اپریل) کو بجلی کی قیمتوں میں طویل انتظار کے بعد کمی کا اعلان کریں گے، بجلی کی قیمت میں 8 روپے فی یونٹ کمی کا امکان ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس آج ہوگا جس میں اہم وفاقی وزراء اور سینئر حکام شرکت کریں گے۔

اجلاس میں توانائی کے شعبے میں مختلف اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے گی جن کی وجہ سے قیمتوں میں حالیہ کمی واقع ہوئی ہے، وزیر توانائی اویس لغاری مجوزہ تبدیلیوں کے پس پردہ عوامل کا جائزہ پیش کریں گے۔

قیمتوں میں متوقع کمی کئی اسٹریٹجک اقدامات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، جن میں چھ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں کو ختم کرنا اور ٹیک اینڈ پے ماڈل کے تحت 16 دیگر آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات شامل ہیں۔

مزید برآں، بجلی کے نرخوں کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے بگاس پاور پلانٹس کی کرنسی کو امریکی ڈالر سے پاکستانی روپے میں تبدیل کرنا اور سرکاری پاور پلانٹس کے لیے ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) کو 13 فیصد تک کم کرکے 168 روپے کی شرح تبادلہ مقرر کرنا اہم رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیرف میں کمی کا تخمینہ مارچ کے وسط سے تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کو بھی مدنظر رکھتا ہے، جس سے حکومت کو تقریبا 168 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ اس بچت سے بجلی کے نرخوں میں 1.30 روپے کی اضافی کٹوتی کا امکان ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے اس اعلان کی توثیق متوقع ہے، جس میں حکومت کی جانب سے تین ماہ کے لیے ایندھن کی قیمتوں کو منجمد کرکے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو تسلیم کیا جائے گا۔

متوقع کٹوتیوں کے علاوہ، حکومت بجلی کی قیمتوں میں 8 روپے کی کمی میں سے 6 روپے کو مستقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بجلی کے بلوں سے منسلک پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی 35 روپے فیس کے ممکنہ خاتمے کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں، جس پر جولائی 2025 تک عمل درآمد متوقع ہے۔

بجلی کی قیمتوں میں یہ کمی وزیر اعظم شہباز شریف کے وسیع تر معاشی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد آئی ایم ایف کی ہدایات کی تعمیل کو برقرار رکھتے ہوئے صارفین پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک افراط زر اور توانائی کی قلت سمیت معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے، آج کا اعلان عوامی بے چینی کو کم کرنے اور حکومت کے مالیاتی انتظام پر اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف