وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں چولستان منصوبہ روکنے کی صلاحیت، طاقت اور اختیار موجود ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو اس اختیار کو استعمال کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں، تاہم اگر ہمارے خدشات کو تسلیم کر لیا جائے تو سخت اقدامات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت نے چولستان کینال کی تعمیر کے لیے مختص 45 ارب روپے خرچ نہیں کیے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کو شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے، 1999 سے 2024 تک تربیلا ڈیم صرف 17 دن اور منگلا ڈیم صرف 4 دن اپنی مکمل گنجائش تک بھرا۔ ایسے حالات میں نئی نہروں کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟
انہوں نے کہا کہ چولستان کینال منصوبے کی ابتدائی لاگت 218 ارب روپے تھی جو اب 225 ارب تک پہنچ چکی ہے۔ سندھ اسمبلی اس منصوبے کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر چکی ہے اور تین صوبے پہلے ہی اس کی مخالفت کر چکے ہیں۔
مراد علی شاہ نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ جب تک مکمل مشاورت نہ ہو، اس منصوبے کو مسترد کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments