مارکٹس

شوگر کمپنی طارق کارپوریشن کا 200 کلوواٹ کا سولر سسٹم لگانے کا فیصلہ

  • ای سی سی کے مطابق شمسی توانائی کی پیداواری صلاحیت 2021 میں 321 میگاواٹ سے بڑھ کر دسمبر 2024 تک 4124 میگاواٹ ہوگئی ہے
شائع March 24, 2025

پاکستان میں صنعتیں توانائی کے متبادل ذرائع، خصوصاً شمسی توانائی، کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ طارق کارپوریشن لمیٹڈ نے 200 کلو واٹ سولر سسٹم نصب کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے لاگت میں کمی اور پائیداری میں بہتری متوقع ہے۔

طارق کارپوریشن لمیٹڈ (ٹی کارپ)، جو چینی اور اس کے ذیلی مصنوعات کی تیاری میں مصروف ہے، نے قابل تجدید توانائی اپنانے والی تازہ ترین کمپنی بن کر 200 کلو واٹ کا سولر پاور سسٹم لگانے کا اعلان کیا ہے۔

لسٹڈ کمپنی نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ایک نوٹس کے ذریعے اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

ہم یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کررہے ہیں کہ طارق کارپوریشن لمیٹڈ (ٹی کارپ) نے 200 کلو واٹ سولر پاور سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو پائیداری اور عملی کارکردگی میں بہتری کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس سے ٹی کارپ کے سالانہ بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی ۔

پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع خاص طور پر شمسی توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی ہوئی ہے جو رہائشی و تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔

یہ بڑھتا ہوا رجحان پالیسی سازوں کے لیے قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے پر اس کے اثرات کے حوالے سے چیلنج بن گیا ہے کیونکہ بجلی کی کھپت جمود کا شکار ہے۔

بہرحال، توانائی کے اس نسبتا سستے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کے لئے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اولمپیا ملز لمیٹڈ نے اپنے پلانٹ میں 500 کلو واٹ آف گرڈ سولر پاور سسٹم لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

دریں اثناء قابل تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ شمسی توانائی کے حوالے سے حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور قابل تجدید توانائی کا فروغ اولین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمسی توانائی سے متعلق حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور قابل تجدید توانائی کا فروغ ہماری ترجیح ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چند روز قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کی خریداری کی شرح 27 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 10 روپے فی یونٹ کردی۔ اس فیصلے کی وجہ نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ اور اس کے گرڈ صارفین پر مالی اثرات کو قرار دیا گیا۔

ای سی سی کو پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں نصب شدہ شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت 2021 میں 321 میگاواٹ سے بڑھ کر دسمبر 2024 تک 4,124 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔

Comments

200 حروف