ایک ایسا ملک جو دنیا میں پانی کے بدترین ضیاع اور خوراک کے مستقل عدم تحفظ کا شکار ہے، وہ ان چیلنجز کا کیسے سامنا کرتا ہے؟چولستان پراجیکٹ اور وسیع تر گرین پاکستان اقدام کو پالیسی کے بڑے فیصلوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو زرعی انقلاب اور قومی خوراک کے تحفظ کے لیے جراتمندانہ اقدامات کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کو بڑے پیمانے پر شجرکاری اور ریاستی سرپرستی میں کارپوریٹ فارمنگ کے امتزاج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے ماحولیاتی اور خوراک کے بحرانوں کا حل بتایا جاتا ہے، مگر اکثر اس کی تفصیلات اور سیاق و سباق عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ بظاہر یہ کوششیں بلند حوصلہ، جدید اور شاید ضروری معلوم ہوتی ہیں، خاص طور پر ایسے ملک میں جو پانی کے شدید بحران اور بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کا شکار ہے۔ مگر جب کوئی منصوبہ حکمت عملی اور شفافیت سے محروم ہو، تو اس سے بلند تواقعات اکثر گہری ادارہ جاتی کمزوریوں کو چھپالیتی ہیں۔

چولستان پراجیکٹ کی بنیادی سوچ سادہ ہے: اگر بنجر زمینوں پر کارپوریٹ فارمنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواریت اور کارکردگی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، تو یہ پاکستان کی زرخیز مگر غیر مؤثر طریقے سے چلائی جانے والی زرعی زمینوں میں بھی وسیع تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کاغذ پر یہ ایک دلکش تصور ہے۔ مگر یہ وہی بیانیہ ہے جو اس وقت مقبول ہوتا ہے جب پالیسی ساز روایتی زرعی طریقوں میں اصلاحات کے مشکل کام سے بچنے کی خواہش رکھتے ہوں۔

پاکستان میں پانی کے انتظام اور زرعی پالیسی سے جڑے تین بنیادی مسائل دہائیوں سے چلے آ رہے ہیں، جنہیں سنجیدگی سے حل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی: پالیسی سازی میں جمود، فوائد اور نقصانات کی غیر مساوی تقسیم، اور شفافیت کے فقدان کی جڑیں گہری ہونے کا رجحان۔

چولستان پراجیکٹ کے حق میں دی جانے والی وضاحت کو جدید اور مستقبل بین کہہ کر پیش کیا جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک چکمہ ہے۔ پاکستان کا زرعی شعبہ دنیا میں پانی کے سب سے زیادہ ضیاع کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں پرانے نہری نظام، بے قابو زیرِ زمین پانی نکالنے کے رجحان، ناقص آبپاشی کا نظام، جدید زرعی تکنیکوں کا فقدان، اور ایسی پالیسیوں کا نہ ہونا شامل ہیں جو پانی کے بچاؤ کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔ موازنہ کرنے پر یہ واضح ہوتا ہے کہ دیگر ممالک اسی زرعی پیداوار کو بہت کم پانی میں حاصل کر لیتے ہیں۔ اس بحران کا صحیح حل اگرچہ مشکل مگر بالکل واضح تھا: نظام کے اندر سے اصلاحات کی جائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں کسانوں کو پانی بچانے والی تکنیکوں کو اپنانے کے لیے مراعات دی جائیں، ایسی سرپرستی کے نظاموں کو ختم کیا جائے جو نااہلی کو فروغ دیتے ہیں، بیوروکریسی میں جدیدیت کے خلاف مزاحمت ختم کی جائے، اور انتخابی دورانیوں کے تسلسل میں استحکام لایا جائے۔

مگر اس کے برعکس، پالیسی سازوں نے آسان راستہ اپنایا — ریاستی زمینوں کو اپنے تصرف میں لینا، کارپوریٹ فارمنگ کے عظیم تجربات کا آغاز کرنا، اور ایسی تکنیکی مظاہروں کو فروغ دینا جو سیاسی طور پر حساس زرعی طبقوں کے ساتھ حقیقی مکالمے سے بچنے کا ایک راستہ فراہم کریں۔ نتیجہ اصلاحات نہیں بلکہ ایک دکھاوا ہے۔ اور وہ پالیسی سازی جو دکھاوے کو حقیقت کا متبادل بنا دے، وہ ناکامی کی طرف ہی جاتی ہے۔

اس منصوبے کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب اصلاحات سیاسی جمود کا شکار ہو جائیں تو تجربات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ مگر بڑے پیمانے پر کیے جانے والے ناکام تجربات اکثر جمود سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ عوامی مایوسی کو مزید بڑھاتے ہیں اور طاقتور مفاداتی گروہوں کو آئندہ اصلاحات کی کوششوں کے خلاف مزید دلائل فراہم کرتے ہیں۔ اس کا نقصان صرف مالی نہیں بلکہ اصلاحات کی ساکھ کا بھی ہے۔

ایک اور گہرا مسئلہ عدم مساوات کی مستقل موجودگی ہے۔ سندھ کے پسماندہ علاقوں میں کسانوں کے کھیت خشک نہروں کے سبب ویران ہورہے ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب کے چھوٹے کاشتکار غیر یقینی پانی کی فراہمی پر منحصر ہیں۔ پانی کی پالیسی کو عام طور پر بین الصوبائی کشمکش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے درمیان۔ یہ بیانیہ سیاسی طور پر تو کارآمد ہو سکتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اصل متاثرہ فریق ہمیشہ دریائے سندھ کا ماحولیاتی نظام رہا ہے — جو اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ تاریخی پانی کے بہاؤ کا محض 20 فیصد ہی اب ڈیلٹا تک پہنچ پاتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید ماحولیاتی بگاڑ اور سمندری پانی کی دراندازی کا سامنا ہے۔ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے نے پاکستان کو دہائیوں تک پانی کی سیکیورٹی فراہم کی، مگر ساتھ ہی ساتھ ملک کو حد سے زیادہ استعمال اور پانی پر انحصار کی روش میں جکڑ دیا۔ جیسے جیسے ماحولیاتی دباؤ بڑھا اور آبادی میں اضافہ ہوا، موافقت کی ضرورت مزید شدت اختیار کر گئی، مگر اس کی کوئی عملی کوشش نہیں کی گئی۔

سندھ، بالکل پنجاب کی طرح، سبز انقلاب کے دوران نمایاں فوائد سے مستفید ہوا۔ درحقیقت، اس کی فصلوں کی پیداوار کئی سالوں تک پنجاب سے زیادہ رہی، اور دیہی خوشحالی نے شہری ہجرت کو کم کیا۔ لیکن یہ فوائد بھاری قیمت پر حاصل کیے گئے: ڈیلٹا میں کھارے پانی کی دراندازی، ماحولیاتی بہاؤ میں شدید کمی، اور ٹیل اینڈ (نہروں کے آخری سرے) پر موجود کسانوں کی بدحالی میں اضافہ۔ دونوں صوبوں میں، چھوٹے کاشتکار اور ٹیل اینڈ کے کسان ان نقصانات کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں، جبکہ نہروں کے ابتدائی سروں پر موجود بڑے زمیندار اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد ان اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔ بین الصوبائی تنازعات کے بیانیے نے سہولت کے ساتھ ان صوبوں کے اندر پائی جانے والی واضح ناانصافیوں کو چھپا دیا ہے، جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ کمزور طبقات نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔ تاریخی طور پر، صوبے بین الصوبائی تنازعات کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ اپنی سرحدوں کے اندر پانی کی غیر مساوی تقسیم کے بارے میں مشکل فیصلوں سے گریز کیا جا سکے۔

پانی کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرنے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، خاص طور پر سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاسی حلقے، ماحولیاتی تنظیمیں، اور سول سوسائٹی کے گروہ اس موقف کو اپناتے ہیں کہ موجودہ تقسیم ناانصافی پر مبنی اور ماحولیاتی لحاظ سے غیر پائیدار ہے، جبکہ پنجاب میں موجود مضبوط مفاداتی گروہ ان مطالبات کی مزاحمت کرتے ہیں۔ مگر ایسے مطالبات ان بنیادی رکاوٹوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ان مذاکرات کو خطرناک اور ممکنہ طور پر عدم استحکام کا باعث بنا سکتی ہیں۔ جب تک ادارہ جاتی اعتماد اور مؤثر نفاذ کے قابل بھروسہ طریقے موجود نہ ہوں، پانی کی تقسیم کے معاہدوں کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوششیں ناکام ہونے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں۔ جو چیز واقعی ضروری ہے وہ ایک شفاف، ڈیٹا پر مبنی تقسیم کا فریم ورک ہے— ایسا فریم ورک جو موسمیاتی اور آبی حقائق کے مطابق ارتقا پذیر ہو اور آزادانہ نگرانی کے ذریعے نافذ کیا جائے۔

تیسری بڑی ادارہ جاتی ناکامی شفافیت کی بجائے ابہام کو ترجیح دینا ہے۔ بڑے منصوبے، خاص طور پر وہ جن میں ریاستی سرپرستی میں اجارہ داریوں کا کردار ہو، بند دروازوں کے پیچھے تیار کیے جاتے ہیں۔ پانی کی تقسیم کے منصوبوں، متاثر ہونے والی کمیونٹیز کی شناخت، معاوضے کے طریقہ کار، اور آزادانہ نگرانی جیسے اہم سوالات غیر واضح رہتے ہیں۔ ماضی کے منصوبے، جیسے لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) اور گریٹر تھل کینال، یہ ثابت کر چکے ہیں کہ جب خفیہ طریقے اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کی کمی ہوتی ہے، تو یہ مسائل حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کی شفافیت کے بغیر، عوامی خدشات نہ صرف فطری ہیں بلکہ بالکل جائز بھی ہیں۔

چولستان منصوبہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں، بلکہ وہی مبہم طریقے اپناتا ہے جو لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین اور گریٹر تھل کینال جیسے منصوبوں میں دیکھے گئے، جہاں شفافیت کی کمی اور محدود شراکت داری نے ماحولیاتی تباہی، قانونی تنازعات، اور پالیسی سازوں کے لیے طویل مدتی ساکھ کے مسائل پیدا کیے۔ ایک صحرا میں پانی پہنچانے کے لیے درکار لاجسٹک، مالیاتی، اور ماحولیاتی چیلنجز بہت بڑے ہیں۔ کشش ثقل کے خلاف پانی کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے آپریشنل اخراجات، اس نظام کو برقرار رکھنے کی انجینئرنگ پیچیدگیاں، اور مسلسل سبسڈی کی تقریباً یقینی ضرورت، سبھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مالی لحاظ سے ایک غیر مستحکم منصوبہ ہے۔ ناکامی کوئی دور کا خطرہ نہیں، بلکہ سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ ہے۔

ایسی ناکامی کے بعد کیا ہوگا؟ نقصان صرف بجٹ اور بیلنس شیٹ تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ اصلاحات پر عوامی اعتماد کو مزید کمزور کر دے گا۔ اگلی نسل کے پالیسی ساز ایک ایسے معاشرے کا سامنا کریں گے جو زیادہ مشکوک، زیادہ مزاحم، اور پرانے طریقوں میں مزید جکڑا ہوا ہوگا۔

ایک متبادل طریقہ یہ ہو سکتا تھا کہ معمولی زمینوں پر چھوٹے، آزادانہ طور پر آڈٹ شدہ پائلٹ منصوبے شروع کیے جاتے، جن میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور سول سوسائٹی کی نگرانی شامل ہوتی۔ پاکستان کو ایک ایسی پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے جو تین بنیادی ستونوں پر قائم ہو: شواہد پر مبنی اصلاحات کا تدریجی نفاذ، بین الصوبائی اور اندرونی صوبائی ناانصافیوں کو دور کرنے کے لیے مساوات، اور فیصلہ سازی میں غیر متزلزل شفافیت۔ مستقبل کے اقدامات کو بڑے تجربات کی بجائے پائلٹ ٹیسٹنگ کو ترجیح دینی چاہیے، متبادل پہلوؤں کو شروع میں ہی واضح کرنا چاہیے، اور ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے بنانے چاہئیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھل سکیں۔ بالآخر، کسی بھی حل کا بنیادی مقصد اعتماد کو مضبوط کرنا، تصدیق شدہ نتائج فراہم کرنا، اور آسان راستے اختیار کرنے کے رجحان سے گریز کرنا ہونا چاہیے۔

یہ کوئی پالیسی پر مبنی ویژن نہیں، بلکہ ایک ادارہ جاتی فرار ہے، جسے ایک نظریے کے لبادے میں پیش کیا جا رہا ہے— اور اس کی قیمت عوامی اعتماد کے زوال، ساکھ کی خرابی، اور ایک مکمل نسل کے لیے اصلاحات کے دروازے کے بند ہونے کی صورت میں ادا کی جائے گی۔ سوال یہ ہے: پاکستان مزید کتنے ناکام تجربات کا متحمل ہو سکتا ہے، اس سے پہلے کہ یہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے؟

Comments

200 حروف