پاکستان اور دیگر ممالک کے پاس کتنا سونا؟
- ایشیا میں سونے کے ذخائر میں چین اور بھارت سرفہرست
سونے کی قیمت جمعرات کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد، ہم ان ممالک پر نظر ڈالتے ہیں جو سب سے زیادہ سونے کے ذخائر رکھتے ہیں۔ امریکہ، جرمنی اور اٹلی سرفہرست ہیں، جبکہ جغرافیائی اور اقتصادی کشیدگی کے باعث سونے کی مقبولیت برقرار ہے۔
سونے کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمت کے ساتھ، یہ ایک پسندیدہ اثاثہ بنا ہوا ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ مرکزی بینکوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور خریداری ہے، جہاں سونے کو اس کی محفوظ حیثیت، لیکویڈیٹی اور منافع کی خصوصیات کی بنا پر ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے—یہ تینوں عوامل مرکزی بینکوں کی سرمایہ کاری کے بنیادی مقاصد ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مرکزی بینکوں نے 2024 میں 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدا، جو مسلسل تیسرے سال بڑی پیمانے پر خریداری کی عکاسی کرتا ہے اور پچھلی دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔
جنوری 2025 تک، پاکستان 64.7 ٹن سونے کے ذخائر کے ساتھ فہرست میں 49ویں نمبر پر تھا۔
اسی وجہ سے مرکزی بینک سونے کے بڑے ذخیرہ کار ہیں، جو تاریخ میں کان کُنی کے ذریعے نکالے گئے مجموعی سونے کا تقریباً پانچواں حصہ رکھتے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق، 2024 کی چوتھی سہ ماہی تک امریکہ کے پاس فورٹ ناکس میں سب سے زیادہ 8,133.5 ٹن سونے کے ذخائر ہیں۔
جرمنی 3,351.5 ٹن کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس 2,814 ٹن، اٹلی کے پاس 2,451.8 ٹن اور فرانس کے پاس 2,437 ٹن سونا ہے، جو سرفہرست پانچ ممالک میں شامل ہیں۔
روسی فیڈریشن (2,329.6 ٹن)، چین (2,284.5 ٹن)، سوئٹزرلینڈ (1,039.9 ٹن)، بھارت (879 ٹن)، جاپان (846 ٹن) اور ترکیہ (619.9 ٹن) سونے کے ذخائر میں سرفہرست 10 ممالک میں سرفہرست ہیں۔
مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری 2025 میں بھی جاری رہی، جس میں پولینڈ، بھارت، چین، کرغزستان اور ازبکستان نمایاں رہے۔
ایشیا
کل 940.92 ٹن سونے کے ساتھ، بھارت جنوبی ایشیا میں سب سے آگے ہے اور اس نے سال 2024 میں 22.54 ٹن کا اضافہ کیا۔
جنوری 2025 تک پاکستان 64.7 ٹن سونے کے ساتھ فہرست میں 49 ویں نمبر پر تھا۔
مشرق بعید (ایسٹ ایشیا) میں مجموعی طور پر 3,229.97 ٹن سونا موجود ہے، جس میں چین کا سب سے بڑا حصہ ہے، اس کے بعد جاپان اور جنوبی کوریا آتے ہیں۔
مغربی یورپ
مجموعی طور پر 11,773.55 ٹن سونے کے ساتھ، یہ ممالک شمالی امریکا کے ذخائر سے آگے نکل گئے، جہاں امریکہ سرفہرست ہے۔
جرمنی، اٹلی، فرانس اور سوئٹزرلینڈ سرفہرست رہے، جن کے بعد نیدرلینڈز، پرتگال اور برطانیہ کا نمبر آتا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے اس سال دو ممکنہ شرح سود میں کٹوتیوں کے اشارے، تجارتی محصولات کی غیر یقینی صورتحال، شرح سود میں کمی کے امکانات اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سونے کی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے، جس کے نتیجے میں رواں سال اب تک سونا 16 مرتبہ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے جن میں سے 4 بار قیمت 3,000 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے قرضوں، کساد بازاری کے خدشات اور مالیاتی پالیسی میں نرمی کے رجحان نے سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کردیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ سونے کی قیمت 3,500 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو اسے ایک مستحکم اثاثہ کے طور پر نمایاں کرتی ہے کیونکہ یہ سیاسی اور معاشی پابندیوں سے آزاد ہے۔
Comments