ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2025 میں پاکستان کی پوزیشن قدرے گرگئی، فہرست میں پاکستان ایک درجہ تنزلی کے ساتھ یعنی 108 ویں نمبر سے 109 ویں نمبر پر موجود ہے۔ اس تنزلی کے باوجود پاکستان اپنے علاقائی ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان سے آگے ہے جو بالترتیب 118 ویں اور 147 ویں نمبر پر ہیں۔

اس سال کی رپورٹ، جو گیلپ اور اس کے شراکت داروں نے شائع کی ہے، 147 ممالک کی درجہ بندی کرتی ہے۔ یہ درجہ بندی 2022 سے 2024 کے درمیان عوام کے معیار زندگی کے اوسط جائزے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش (133ویں) اور سری لنکا (134ویں) درجے پر ہیں، جبکہ ایران 3.9 فیصد پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے کے باوجود 99 ویں نمبر پر ہے۔

چین 27 ویں نمبر پر رہتے ہوئے خطے میں سرفہرست ہے، جو خوشحالی انڈیکس میں اس کی مضبوط کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔

عالمی سطح پر فن لینڈ مسلسل ایک اور سال کے لیے دنیا کا خوش ترین ملک برقرار رہا جبکہ ڈنمارک اور آئس لینڈ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

دیگر ٹاپ 15 ممالک میں سویڈن، نیدرلینڈز، کوسٹا ریکا اور ناروے شامل ہیں۔

دریں اثنا امریکا اور برطانیہ کی درجہ بندی میں کمی آئی ہے جہاں امریکا 24ویں نمبر پر آ گیا—جو اس کی تاریخ کی کم ترین درجہ بندی ہے—جب کہ برطانیہ 23ویں نمبر پر پہنچ گیا جو 2017 کے بعد اس کی بدترین درجہ بندی ہے۔

فہرست میں سیرالیون، لبنان، ملاوی اور زمبابوے دنیا کے کم ترین خوشحال ممالک میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں سماجی تعاون، آمدنی، آزادی، اوسط عمر اور بدعنوانی جیسے عوامل کے خوشحالی کی سطح پر اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اس سال کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خوشحالی میں اضافے کے لیے ”دیکھ بھال اور باہمی تعاون“ بنیادی عوامل ہیں۔

Comments

200 حروف