پاکستان

دفتر خارجہ کا پاکستانی وفد کے دورہ اسرائیل سے اظہار لاعلمی، فلسطینیوں کے حق میں مؤقف کا اعادہ

دفتر خارجہ نے صحافیوں، دانشوروں اور بااثر افراد پر مشتمل پاکستانی وفد کے مبینہ دورہ اسرائیل کے بارے میں آگاہ ہونے کی...
شائع March 20, 2025

دفتر خارجہ نے صحافیوں، دانشوروں اور بااثر افراد پر مشتمل پاکستانی وفد کے مبینہ دورہ اسرائیل کے بارے میں آگاہ ہونے کی تردید یا دورے سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارج نے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطین یا عرب اسرائیل تنازعے کے حوالے سے اسلام آباد کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان سے اس دورے کے بارے میں پوچھا گیا۔

انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس دورے کے بارے میں انہی میڈیا رپورٹس کے ذریعے معلوم ہوا جن کا آپ حوالہ دے رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر پوسٹ کرنے والے ایک شخص کے علاوہ ہمارے پاس اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں ہیں کہ کس نے دورہ کیا۔

ترجمان نے اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے غیر متزلزل موقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا فلسطین یا عرب اسرائیل مسائل پر پاکستان کے موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ غیر متزلزل، بہت واضح، اور بہت مضبوط ہے۔

دفتر خارجہ نے معلومات کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے ملوث افراد کی قومیت یا پاسپورٹ کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کردیا۔

ترجمان نے مغربی کنارے اور غزہ کے عوام پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے فضائی حملے اور چھاپے جنگ بندی معاہدے، بین الاقوامی انسانی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون پر عالمی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے مغربی کنارے اور غزہ میں جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد تک بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ فلسطین کے بے گناہ عوام کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی کی مہم کو روکنے کی کوششیں تیز کرے۔

ترجمان کے بقول اس وحشیانہ جنگ میں اسرائیل کے جرائم کا احتساب بین الاقوامی قانونی حیثیت کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کے اصولوں پر مبنی دو ریاستی حل کے لیے پرعزم ہے۔

Comments

200 حروف