بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بدھ کے روز ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مارچ 2025 میں افراط زر بڑھنے کی شرح 0.5 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جو تین دہائیوں میں سالانہ کی کم ترین شرح ہوگی۔

پاکستان میں افراط زر خاص طور پر حالیہ برسوں میں ایک اہم اور مستقل معاشی چیلنج رہا ہے۔ مئی 2023 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) افراط زر کی شرح 38 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی۔ تاہم، اس کے بعد سے یہ مسلسل کم ہورہی ہے۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں سی پی آئی پر مبنی افراط زر کی شرح سالانہ کی بنیاد پر 1.5 فیصد رہی جو اس سے پچھلے مہینے میں 2.4 فیصد تھی۔ یہ 113 ماہ میں سب سے کم ہے۔

رواں ماہ رمضان المبارک کے دوران غذائی افراط زر میں 2.5 فیصد اضافے کا امکان ہے جس کی بنیادی وجہ ٹماٹر کی قیمتوں میں 43 فیصد اضافہ، تازہ پھلوں میں 25 فیصد اضافے اور تازہ سبزیوں کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ چکن اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ پیاز، چائے اور دالوں کی قیمتوں میں 7 سے 21 فیصد کی کمی آئی ہے۔

بروکریج ہاؤس نے توقع ظاہر کی کہ ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس کے شعبے میں ماہانہ میں تقریبا 0.35 فیصد کمی دیکھنے میں آئے گی۔

اس شعبے میں بجلی کی قیمتوں میں 2.3 فیصد کمی متوقع ہے جس کی وجہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 2 روپے فی کلو واٹ فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ نسبتا زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 0.1957 روپے فی کلو واٹ کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) گزشتہ ماہ ختم ہوگئی جبکہ مارچ مئی 2025 کے لیے کیو ٹی اے ابھی تک منظور نہیں کیا گیا جو نیپرا کے مطابق منفی 2 روپے فی یونٹ ہے۔ اگر اس کا بروقت نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے تو اس سے بجلی کے انڈیکس میں مزید 6.27 فیصد کمی آئے گی جس سے ہیڈ لائن افراط زر میں مزید 15 فیصد کمی آئے گی۔

تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور گندم کی قیمتوں میں استحکام کی وجہ سے ٹاپ لائن نے مالی سال 25 کے لیے افراط زر کی پیش گوئی کو 6 سے 7 فیصد سے کم کر کے 5 سے 6 فیصد کر دیا ہے۔

مارچ 2025 ء کے لئے افراط زر کی توقعات ایک فیصد سے بھی کم ہونے کی وجہ سے حقیقی شرحیں 1100 سے 1150 بی پی ایس ہوں گی جو پاکستان کی 200 سے 300 بی پی ایس کی تاریخی اوسط سے کافی زیادہ ہیں۔ تاہم مالی سال 26 کے 8 سے 9 فیصد افراط زر کے تخمینے کی بنیاد پر حقیقی شرح 300 سے 400 بی پی ایس مثبت ہے۔

ٹاپ لائن کا ماننا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے پاس مالی سال 26 کے اوسط افراط زر کے تخمینے کی بنیاد پر پالیسی ریٹ میں 100 بی پی ایس کمی کرنے کی مزید گنجائش ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کے جائزے، مالی سال 26 کے بجٹ اور بڑھتی ہوئی درآمدات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک شرح سود میں کمی کا عمل 2025 کی پہلی ششماہی تک روک سکتا ہے۔

Comments

200 حروف