پاکستان کا قومی بجلی کا گرڈ فروری 2018 میں فروری 2025 کے مقابلے میں زیادہ بجلی پیدا کر رہا تھا۔ اس حقیقت کو سمجھیں۔ یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب فروری میں بجلی کی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 3 فیصد سالانہ کمی بظاہر تشویشناک نہیں لگتی، لیکن یاد رکھیں کہ یہ پہلے ہی سطح سے کم ہو رہی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ”ونٹر بجلی سہولت پیکیج“ بھی ختم ہوا، جو بظاہر ناکام ثابت ہوا۔
سال 2025 کے پہلے آٹھ ماہ میں بجلی کی مجموعی پیداوار 72 ارب یونٹس رہی، جو کہ مالی سال 2020 کے بعد سب سے کم سطح ہے اور مالی سال 2022 کے عروج سے 10 فیصد کم ہے۔ پچھلے 12 مہینے کی اوسط بجلی کی پیداوار 10 ارب یونٹس پر جمود کا شکار ہے، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4 فیصد کم ہے۔ ستمبر 2019 میں پہلی بار بجلی کی پیداوار کا اوسط 10 ارب یونٹس سے تجاوز کر گیا تھا، یعنی 78 مہینے پہلے۔ مزید یہ کہ فروری 2025 میں درجہ حرارت گزشتہ 65 سال کے گرم ترین 10 فیصد دنوں میں شامل رہا، جو بجلی کی کم پیداوار کو مزید تشویشناک بناتا ہے۔
پاکستان میں گھریلو صارفین کی فی کنکشن بجلی کھپت مالی سال 2024 کے اختتام پر کم از کم دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جو محض 123 یونٹس فی ماہ رہی۔ صنعتی صارفین کا حال بھی مختلف نہیں، جہاں بجلی کی کھپت 5,000 یونٹس ماہانہ سے بھی کم ہو گئی۔
بجلی کی طلب میں اس کمی کو سمجھنے کے لیے لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار پر ایک سرسری نظر ڈالنا کافی ہے۔ ایک تہائی صنعتی شعبے مالی سال 2016 کی بنیاد سے بھی کم سطح پر کام کر رہے ہیں۔ جب بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوا اور ترسیلی مسائل کو نظر انداز کیا گیا، تو کئی صنعتوں نے متبادل ذرائع اختیار کر لیے۔ کچھ مکمل طور پر گرڈ سے ہٹ گئے، جبکہ کچھ نے سولر پاور پر انحصار بڑھا دیا۔
گھریلو صارفین کے لیے بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں پاکستانی متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے معیارِ زندگی میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی، بلکہ بیشتر لوگوں کے لیے حقیقی آمدنی میں جمود رہا۔ زیادہ تر بجلی کی کھپت 100 سے 300 یونٹس ماہانہ والے صارفین سے آتی ہے، جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے صارفین کو نئے آلات خریدنے کے بجائے موجودہ کھپت کم کرنے پر مجبور کیا، کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان میں بجلی کے نرخ خطے میں سب سے زیادہ ہو گئے تھے۔
زیادہ بجلی خرچ کرنے والے صارفین نے چھتوں پر سولر سسٹمز لگا لیے، جو نہ صرف فائدہ مند ثابت ہوئے بلکہ بہت جلد اپنی لاگت پوری کر لیتے ہیں، چاہے وہ گرڈ سے جڑے ہوں یا مکمل طور پر آف گرڈ ہوں۔ یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہے گا کیونکہ جدید اور سستی بیٹری اسٹوریج کے باعث سولر توانائی کا حصول مزید آسان ہو جائے گا۔ اس طرح قومی گرڈ کی بجلی کی طلب مزید کم ہو جائے گی۔ دوسری جانب، بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے باعث نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوا، جبکہ گردشی قرضے کو سنبھالنے میں ناکامی کے باعث صارفین پر مزید سرچارجز لگا دیے گئے تاکہ قرضوں پر سود ادا کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ، اے ٹی اینڈ سی نقصانات کی بنیاد پر کمرشل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس نے بجلی کی پیداوار کو مزید محدود کر دیا اور صارفین کے نرخوں میں مزید اضافے کا سبب بنا، کیونکہ آدھے سے زیادہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں زیادہ نقصانات اور کم وصولیوں کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اگرچہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں ترسیل و تقسیم کے نقصانات میں کچھ بہتری آئی ہے اور صارفین کو نرخوں میں عارضی ریلیف ملا ہے، لیکن بجلی کے نرخوں کو مناسب سطح پر لانے کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ متبادل توانائی کے ذرائع تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، اور اگر قومی گرڈ کو اپنی اہمیت برقرار رکھنی ہے تو بہتر گورننس کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ جس کا مکمل خاکہ پہلے ہی موجود ہے، بس کسی کو عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔
Comments