پاکستان کے سب سے بڑے آبی ذخائر، تربیلا اور منگلا، اپنے ڈیڈ لیول کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کو دوہرے بحران کا سامنا ہے: شدید پانی کی قلت اور گندم کی متوقع فصل کی تباہی۔
پنجاب اور سندھ، جو ملک کی زرعی ریڑھ کی ہڈی ہیں، کو 35 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، اور کسان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فصل کے تحفظ کے لیے مراعات، تجارتی رکاوٹوں میں نرمی اور برآمدی فریم ورکز متعارف کرائے۔
پاکستان میں پانی اور زراعت کے تاریخی تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس ہنگامی صورتحال میں ہمیں ٹھوس اور عملی حل اپنانا ہوں گے تاکہ اقتصادی اور غذائی تحفظ کے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ 23 فیصد ہے، اور یہ 37 فیصد مزدور طبقے کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ یہ پورا نظام دریائے سندھ کے آبپاشی نظام (آئی بی آئی ایس) پر منحصر ہے۔ منگلا اور تربیلا ڈیم، جو 1960 اور 1970 کی دہائی میں تعمیر کیے گئے، نے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں انقلابی بہتری پیدا کی اور سبز انقلاب کو ممکن بنایا، جس نے پاکستان کو ایک علاقائی زرعی قوت بنا دیا۔
تاہم، کئی دہائیوں کی بدانتظامی، گاد (سلٹ) بھرنے، اور موسمیاتی دباؤ کی وجہ سے ان ذخائر کی صلاحیت کم ہو چکی ہے۔ تربیلا، جو 11.62 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اب ہر سال 0.2 ملین ایکڑ فٹ ذخیرہ گاد کے باعث کھو رہا ہے۔ اسی طرح، منگلا کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1967 میں اس کے قیام کے بعد سے 19 فیصد کم ہو چکی ہے۔
گندم، جو کہ ملک کی کل کاشت شدہ زمین کے 40 فیصد پر اگائی جاتی ہے، ایک سیاسی طور پر حساس فصل ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے قیمتوں پر قابو پانے کے لیے برآمدات پر پابندی اور درآمدی سبسڈی جیسے اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں کسانوں کو نقصان پہنچا۔ 2020 میں گندم کی ریکارڈ 27.5 ملین ٹن پیداوار کے باوجود حکومت نے برآمد پر پابندی لگا دی تاکہ مہنگائی کو روکا جا سکے، جس کی وجہ سے کسانوں کو اضافی پیداوار کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے فیصلے، پانی کی غیر یقینی فراہمی کے ساتھ، دیہی علاقوں میں قرض اور عدم اعتماد کے مستقل سلسلوں کو جنم دیتے ہیں۔
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ڈیم ڈیڈ لیول تک پہنچ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کو صرف دریا کے بہاؤ پر انحصار کرنا پڑے گا۔ یہ صورتحال ربیع کے موسم کی گندم کی فصل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، جسے 4 سے 5 بار پانی درکار ہوتا ہے۔ 24-2023 میں پہلے ہی پنجاب میں تاخیر سے آبپاشی اور پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث گندم کی بوائی 15 فیصد کم رہی۔ اب جب کہ فصل کاٹنے کے قریب ہے، اس وقت 35 فیصد پانی کی کمی پیداوار میں 20 فیصد کمی کا باعث بن سکتی ہے، جیسا کہ پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے ذرائع کا کہنا ہے۔
اس تشویشناک صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان کسانوں کو ہو رہا ہے، جو کھاد کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافے اور ڈیزل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر گندم کی امدادی قیمت 4,200 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اگر ہم اس قیمت کا بھارت سے موازنہ کریں تو باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے کسانوں کو مالی نقصان اور لاگت کا بوجھ کس قدر زیادہ ہے۔ بھارت میں یوریا کھاد کی قیمت صرف 1,200 روپے فی 50 کلوگرام ہے، جب کہ پاکستان میں یہ 4,400 روپے میں دستیاب ہے۔ کسانوں کا قیمتوں میں کمی کا مطالبہ بالکل جائز معلوم ہوتا ہے۔
دوسری طرف، پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو اپنی خریداری تیز کرنی چاہیے، جس نے 2023 میں 7.4 ملین ٹن ہدف کے مقابلے میں صرف 1.8 ملین ٹن گندم خریدی۔ کسانوں کو ان کی محنت کا معاوضہ دلانے کے لیے ضروری ہے کہ گندم کی نقل و حمل پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، جو سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہیں۔
سال 2022 میں، پنجاب نے گندم کی سندھ منتقلی پر پابندی لگا دی تھی، جس کے نتیجے میں کراچی میں گندم کی قیمتیں 30 فیصد تک بڑھ گئیں۔ حکومت کو محدود پیمانے پر برآمدات کی اجازت دینی چاہیے تاکہ عالمی منڈی میں فائدہ اٹھایا جا سکے، جہاں 2023 میں گندم کی قیمت 330 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی تھی (ورلڈ بینک کے مطابق)۔
بھارت کی گندم برآمدات پر پابندی کی وجہ سے خطے میں قلت پیدا ہو چکی ہے، جسے پاکستان اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیامر بھاشا ڈیم جیسے نئے آبی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے اور نہری نظام میں بہتری لائی جائے تاکہ انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم (آئی بی آئی ایس) میں 60 فیصد پانی کی ضیاع کو روکا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق پانی کی قلت کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس سال پانی کی کم دستیابی اور پالیسی کی غفلت تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومتی خریداری میں تاخیر کی وجہ سے کسانوں کو اپنی گندم مڈل مین کو مارکیٹ ریٹ سے 30 فیصد کم قیمت پر بیچنی پڑتی ہے۔ اگر بین الصوبائی تجارت اور برآمدات کی اجازت دی جائے تو اس سے کسانوں کو طاقت ملے گی اور قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا۔
پاکستان کا گندم بحران نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، جو پانی کے بنیادی ڈھانچے سے لے کر مارکیٹ تک رسائی کے مسائل پر مشتمل ہے۔ قلیل مدتی حل جیسے کہ گندم کی خریداری میں اضافہ اور تجارتی پالیسیوں میں نرمی نقصانات کو کم کر سکتے ہیں، لیکن طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ڈرپ ایریگیشن، ڈیم اپ گریڈیشن، اور کسان دوست پالیسیوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔ عالمی سطح پر گندم کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کے پاس دو راستے ہیں: یا تو اپنے کسانوں کو بااختیار بنائے، یا پھر ایک ایسے مستقبل کا سامنا کرے جہاں غذائی قلت ایک مستقل خطرہ بن جائے۔ اب فیصلے کا وقت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments