پاکستان

شرح سود میں کمی کا سلسلہ رک گیا، مگر کب تک؟

  • معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو معاشی اصلاحات پر عمل درآمد پر توجہ دینی چاہیے
شائع March 12, 2025

پاکستان میں مہنگائی میں کمی کے باوجود مرکزی بینک نے اپنی مسلسل مانیٹری نرمی کے سلسلے کو روک دیا ہے، جس سے کرنسی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے یا تجارتی خسارے کو مزید خراب کرنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ملک کے مرکزی بینک کی جانب سے پیر کے روز غیر متوقع طور پر شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کے بعد حکومت کو اپنی توجہ اقتصادی اصلاحات پر مرکوز کرنی چاہیے، کیونکہ شرح سود میں کمی ترقی کے لیے کوئی جادوئی حل نہیں۔

ماہر معیشت اور آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ کے ٹیم لیڈر وقار احمد نے کہا کہ شرح سود میں کمی اکیلے ترقی کے اہداف پورے نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں محتاط مالیاتی اقدامات کے ساتھ مکمل کرنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی پائیداری اور سرکاری اداروں کی نجکاری، تاکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور مالی وسائل کی کمی کو روکا جا سکے۔

مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے نے ملکی تاریخ میں سب سے بڑے مالیاتی نرمی کے سلسلے کو روک دیا ہے، جس سے ان کاروباری اداروں کو مایوسی ہوئی جو قرضوں کے زیادہ اخراجات سے دباؤ میں تھے۔

معاشی ماہرین نے پیر کے روز شرح میں کمی کی توقع کی تھی، کیونکہ مرکزی بینک نے جون 2023 میں ریکارڈ 22 فیصد کی بلند ترین شرح سے کمی کرتے ہوئے اب تک مجموعی طور پر 1,000 بیسس پوائنٹس کم کیے تھے، تاکہ معیشت کو بحال کیا جا سکے۔

مرکزی بینک کے گورنر جمیل احمد کے مطابق، ملکی معیشت، جس نے پہلی سہ ماہی میں 0.9 فیصد کی شرح سے ترقی کی، مالی سال کے بقیہ حصے میں ترقی کی رفتار پکڑنے کی توقع ہے۔

اگرچہ پہلی سہ ماہی کی ترقی 2.5 فیصد سے 3.5 فیصد کے سالانہ ہدف سے کافی کم ہے، لیکن معیشت جمود کا شکار نہیں۔

تاہم، پاکستان میں توانائی کے نرخ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مالی کفایت شعاری کے اقدامات طلب میں بحالی کے لیے نمایاں چیلنجز ہیں۔

زیادہ تر معاشی ماہرین توقع کرتے ہیں کہ مرکزی بینک جلد ہی شرح میں کمی کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گا، یا تو مالی سال کے اختتام تک یا اگلے مالی سال کے آغاز میں، باوجود اس کے کہ تجارتی خسارے اور کرنسی پر پڑنے والے اثرات کے خدشات برقرار ہیں۔ جنوری میں پاکستان کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر 18 فیصد بڑھ کر 2.313 بلین ڈالر ہو گیا تھا۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے تحقیقاتی سربراہ سعد حنیف نے کہا کہ مرکزی بینک ممکنہ طور پر بیرونی محاذ پر صورتحال مزید واضح ہونے کا انتظار کرے گا یا جب تک وہ اپنے درمیانی مدت کے افراط زر کے ہدف 5 سے 7 فیصد کو حاصل کرنے کے بارے میں پراعتماد نہ ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار جب ایسا ہو جائے گا، تو مجھے توقع ہے کہ وہ شرحوں میں کمی دوبارہ شروع کر دیں گے، اگرچہ یہ سست رفتار ہوگا۔

پاکستان بزنس کونسل کے سی ای او احسان ملک نے خبردار کیا کہ پیر کے روز شرح سود میں کمی جلد ہی اس فیصلے کے الٹنے کی ضرورت پیدا کر سکتا تھا، کیونکہ مانیٹری نرمی سے درآمدات اور تجارتی خسارے میں اضافہ ہوتا ہے، جو زر مبادلہ کی شرح پر دباؤ ڈال کر افراط زر کو بڑھا دیتا ہے۔

نقدی کی قلت کا شکار ملک ستمبر میں منظور شدہ 7 بلین ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کر رہا ہے۔

قرضے کی پہلی قسط زیرِ جائزہ ہے، اور اگر جائزہ کامیاب رہا تو پاکستان کو ایک بلین ڈالر کی قسط ملے گی۔

طلب اور سرمایہ کاری کو بحال کرنا

پاکستان میں مہنگائی مئی 2023 میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو کرنسی کی قدر میں کمی اور آئی ایم ایف کی منظوری کے لیے دی جانے والی سبسڈیز کے خاتمے کی وجہ سے تھی۔ تاہم، فروری میں مہنگائی ایک دہائی کی کم ترین سطح 1.5 فیصد پر آ گئی، جس سے مرکزی بینک کو ترقی کو فروغ دینے کے لیے گنجائش ملی۔

معاشی ماہرین اس خطرے سے بھی خبردار کر رہے ہیں کہ حکومت کم شرح سود کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بڑے بجٹ کے لیے قرضے بڑھا سکتی ہے۔

یہ اقدام ممکنہ طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور نجی شعبے کے مالی وسائل کو محدود کر سکتا ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک نے رپورٹ کیا کہ حکومتی قرضے میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ نجی شعبے کے قرضے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 9.4 فیصد بڑھ گئے ہیں۔

تاہم، محدود قوت خرید قرضے اور سرمایہ کاری کی بحالی میں رکاوٹ بنی رہنے کی توقع ہے۔

لیکسن انویسٹمنٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ پاشا نے کہا کہ صارفین کی قوت خرید کو 2021 سے 2024 کے دوران 75 فیصد پلس قیمتوں میں اضافے سے بحالی میں وقت لگے گا۔“

پاکستان چین اسٹور ایسوسی ایشن کے چیئرمین اسفند یار فرخ نے کہا کہ جمود کا شکار آمدنی اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں نے صارفین کی خریداری کی طاقت کو کم کر دیا ہے۔

معروف برانڈز کی ریٹیل فروخت پچھلے ڈیڑھ سال میں 10 سے 15 فیصد کم ہو گئی ہے، جبکہ ”انتہائی کم منافع کے مارجن“ کی وجہ سے بار بار ڈسکاؤنٹس دیے جا رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ درمیانے اور بڑے ریٹیلرز بقا کے لیے اپنے کاروبار کو ضم کر رہے ہیں یا بند کر رہے ہیں، اور صرف چند بھاری وسائل رکھنے والے سرمایہ کار ہی ترقی میں سرمایہ لگا رہے ہیں۔

بھاری قرض

اکتوبر 2024 میں آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا بینکاری شعبہ دنیا میں حکومتی سیکیورٹیز کا سب سے بڑا تناسب رکھتا ہے جو اس کے کل اثاثوں کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔

، آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ زیادہ ملکی قرض، جو بنیادی طور پر بینکوں کے ذریعے فنانس کیا جاتا ہے، نجی شعبے کے قرضوں کو محدود کر دیتا ہے، پالیسی کے مؤثر نفاذ کو کمزور کرتا ہے، اور شرح سود میں تبدیلی کے نجی شعبے پر اثرات کو گھٹا دیتا ہے۔

سابق گورنر اسٹیٹ بینک، رضا باقر نے کہا کہ پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے زرمبادلہ کے استحکام کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ملک میں عموماً زیادہ کھپت اور درآمدی ترقی کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔

پاکستان عام طور پر اپنا بجٹ جون میں تیار کرتا ہے، جبکہ مالی سال یکم جولائی سے 30 جون تک چلتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا، جہاں مالیاتی غلبہ موجود ہو، وہاں مانیٹری پالیسی نسبتاََ محدود اختیارات رکھتی ہے کہ وہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے اضافے کو روکے، خاص طور پر اگر سیاسی یا دیگر پیش رفتیں عوامی مقبولیت کے حامل بجٹ اقدامات کا باعث بنیں۔

Comments

200 حروف