مقامی افراد اور حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سیکورٹی فورسز کے درمیان سرحدی گزرگاہ پر رات بھر جھڑپوں نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تاہم منگل کی صبح تک صورتحال میں بہتری آ گئی۔
یہ تنازع پیر کے روز شروع ہوا، رمضان المبارک کے پہلے کاروباری روز، جب پاکستان سے خوراک کی درآمد عام طور پر افغانستان میں عروج پر ہوتی ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ جھڑپوں کی وجہ سے تقریبا 15،000 مقامی باشندے لنڈی کوتل چلے گئے۔ افغان سرحدی محافظوں نے بغیر کسی انتباہ کے فائرنگ کی جس میں سرکاری عمارتوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور سرحد کی مسلسل بندش سرحدی علاقے کے لوگوں کو متعدد مسائل سے دوچار کر رہی ہے۔ سرحدی قصبے میں رہنے والے علی شنواری نے رائٹرز کو بتایا کہ لوگ بہت غریب ہیں اور ان کا انحصار سرحد سرحد پار ہونے والی تجارت پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کی بندش کے بعد سے قریبی قصبے میں رشتہ دار اور قبائلی افراد درجنوں رشتہ داروں کی میزبانی کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقے میں چوکی کی تعمیر کے تنازع کی وجہ سے طور خم کراسنگ 21 فروری سے بند ہے۔
دفتر خارجہ نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
طالبان کے زیر انتظام افغان وزارت داخلہ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایک طالبان جنگجو مارا گیا ہے جبکہ 2 زخمی ہوئے ہیں، پاکستانی سیکیورٹی حکام نے اطلاع دی ہے کہ ان کی فورسز کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
طورخم کراسنگ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسافروں اور سامان کی اہم ٹرانزٹ روٹ ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 1.6 ارب ڈالر تھا۔
طورخم گزرگاہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسافروں اور مال کی نقل و حرکت کا اہم راستہ ہے۔ پاکستان کے وزارت خارجہ کے مطابق 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی مالیت 1.6 ارب ڈالر سے زائد تھی۔
خیبر ضلع کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر یوسف آفریدی نے بتایا کہ اس بندش کی وجہ سے 5,000 ٹرک ،جن میں ضروری سامان بھرا ہوا تھا، پھنس گئے ہیں اور کم از کم 15 ملین ڈالر کے نقصانات ہوئے ہیں۔
Comments