ڈیجیٹل اثاثوں کا ارتقا صرف کرپٹو کرنسیوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں وسیع ہے اور ان کو اپنانے کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں قبولیت کی ایک اہم ابتدائی علامت اس وقت سامنے آئی جب وزیرخزانہ نے ڈیجیٹل اثاثوں کے کاروبار سے وابستہ غیر ملکی وفود سے مذاکرات کے بعد قومی کرپٹو کونسل قائم کرنے کے ارادے کا اظہار کیا۔

تاہم فوکس کو وسیع تر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک جامع ویب 3 فریم ورک تیار کیا جاسکے۔ کرپٹو کرنسیوں سے ویب 3 کی طرف منتقلی مالیاتی نظام کی جمہوریت پسندی پر مبنی ہے—جس کا مقصد مرکزی فیصلہ سازی کے خاتمے کے ساتھ جغرافیائی سرحدوں کی حدود سے آگے بڑھنا ہے۔

زیادہ تر مرکزی بینکوں کی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی اس تصور کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ تاہم، اس بات کو تسلیم کیا جارہا ہے کہ کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ حقیقت پر مبنی ہے، جہاں مالیاتی لین دین پاکستان کے اندر اور باہر دونوں سطح پر ہورہا ہے—جس کے باعث اس پر مکمل پابندی عملی طور پر ناممکن ہے۔

اس کے علاوہ ویب 3 اور این ایف ٹیز (نان فنگبل ٹوکنز) کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مختلف شعبوں میں استعمال کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 25 ارب ڈالر کے کرپٹو ٹریڈنگ والیوم اور 2 کروڑ فعال صارفین اس بات کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان اس شعبے کو نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

کرپٹو کرنسیوں اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کو مکمل طور پر مسترد کرنا نہ تو دانشمندانہ ہے اور نہ ہی قابلِ عمل۔ دنیا بھر میں متعدد ایکسچینجز کرپٹو ٹریڈنگ کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ اگرچہ بلا روک ٹوک رسائی مناسب نہیں، لیکن بائنانس اور کوائن بیس جیسے مستند پلیٹ فارمز کو ضابطے کے دائرے میں لا کر باضابطہ بنایا جانا چاہیے۔

فی الحال، پاکستان میں لوگ پہلے ہی کرپٹو کرنسیوں اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جنہیں بعض اوقات غیر قانونی لین دین کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ان اثاثوں کی غیر مرکزی (ڈی سینٹرلائزڈ) نوعیت جہاں فوائد فراہم کرتی ہے وہیں چیلنجز بھی پیش کرتی ہے۔

ڈارک ویب پر ہونے والے لین دین کا ایک بڑا حصہ کرپٹو کرنسیوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے اور اس کے مجرمانہ نیٹ ورکس، بشمول دہشت گرد اور منشیات کے کارٹلز، کے ذریعے استعمال کیے جانے کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔

مناسب ضابطہ کاری کے بغیر کرپٹو کرنسی لین دین کی اجازت دینا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ساتھ تعمیل کے مسائل پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر پاکستان کے ماضی میں طویل مدت تک گرے لسٹ میں شامل رہنے کے تناظر میں۔ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سیکھنا چاہیے، جس نے کامیابی کے ساتھ ڈیجیٹل اثاثوں کے نظام کو باضابطہ اور قانونی شکل دی ہے۔

پاکستان کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے متحدہ عرب امارات کے ماڈل کو اپنانا چاہیے اور اسے اپنے ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کی منظم مارکیٹ کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کیونکہ اس کا دائرہ کار وسیع ہے اور مستقبل میں طرز حکمرانی کے لیے ایسی ٹیکنالوجیز پر بڑھتا ہوا انحصار ناگزیر ہے۔

بلاک چین ٹیکنالوجی کے فوائد صرف کرپٹو ٹریڈنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار کہیں وسیع ہے۔ یہ نہ صرف فنجبیل اثاثوں (جیسے بٹ کوائن) بلکہ نان فنجبیل اثاثوں پر بھی لاگو ہوتی ہے، جنہیں جائداد کی خرید و فروخت، گاڑیوں کی خریداری، ڈیجیٹل آرٹ اور دیگر مالیاتی اثاثوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بلاک چین کی ناقابلِ تغیر خصوصیت ملکیت کے شفاف اور محفوظ ریکارڈ کو یقینی بناتی ہے۔

زیادہ وقت نہیں گزرا جب وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) دونوں ڈیجیٹل اثاثوں پر سنجیدگی سے غور کرنے سے گریزاں تھے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی ) اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، لیکن وزیر خزانہ اپنے نقطہ نظر کو وسعت دینے لگے ہیں—یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے جو پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شامل ہونے میں مدد دے سکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اپنی حکمت عملی کو دستاویزی بنانے اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔ ایک مربوط ویب 3 فریم ورک نہ صرف ادائیگیوں کی پروسیسنگ لاگت میں نمایاں کمی لا سکتا ہے بلکہ لین دین کی سیکیورٹی کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس سے بیرون ملک ترسیلاتِ زر کی لاگت میں کمی آئے گی اور باضابطہ بینکاری چینلز کو زیادہ پُرکشش بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید برآں یہ کراوڈ فنڈنگ اور رئیل اسٹیٹ ٹوکنائزیشن کو بھی آسان بنا سکتا ہے، ساتھ ہی دیگر کئی فوائد فراہم کرسکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل اثاثے ایک ابھرتی ہوئی حقیقت ہیں، جنہیں صرف حکومتی یا مرکزی بینک کے ضوابط کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر پاکستان میں جہاں قانون نافذ کرنے کے نظام روایتی طور پر کمزور رہے ہیں۔

زیادہ دانشمندانہ حکمت عملی یہ ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو اپنایا جائے اور انہیں فعال طور پر ریگولیٹ کیا جائے، تاکہ ان کے فوائد سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ملک کے مالیاتی نظام کو مستحکم کیا جا سکے—اور یہ اقدام جتنا جلدی ہو، اتنا بہتر ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف