پاکستانی اورافغان سیکورٹی فورسز کے درمیان طورخم بارڈر پر جھڑپ
پاکستان اور افغانستان کی سیکورٹی فورسز کے درمیان پیر کے روز حال ہی میں بند کی گئی مرکزی سرحدی گزرگاہ پر جھڑپ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم ایک طالبان جنگجو مارا گیا اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ تنازع رمضان المبارک میں پہلے کاروباری روز شروع ہوا، جب پاکستان سے کھانے پینے کی اشیاء کی عام طور پر افغانستان میں برآمد عروج پر ہوتی ہے، جو انسانی اور بھوک کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ طورخم بارڈر کی 10 روز سے بندش کی وجہ سے ضروری سامان سے لدے ہزاروں ٹرک پھنس گئے ہیں۔
طالبان کے زیر انتظام افغان وزارت داخلہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ تازہ ترین فائرنگ رات گئے ہوئی جس میں ایک طالبان جنگجو مارا گیا ہے اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر2 پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے کہا کہ اس ہفتے ہونے والی جھڑپوں کا تصفیہ کر لیا گیا ہے لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اب سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھولی جائے گی یا نہیں۔ یہ 21 فروری سے بند ہے۔
چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے میں چوکی کی تعمیر پر تنازع کی وجہ سے تازہ ترین بندش سے 5،000 ٹرک پھنس گئے ہیں اور تاجر بڑھتے ہوئے نقصانات سے پریشان ہیں۔
پاک افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر ضیاء الحق سرحدی نے کہا ہے کہ یہ ایک بہت سنگین مسئلہ ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
طورخم کراسنگ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسافروں اور سامان کی اہم نقل و حمل کی گزرگاہ ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 1.6 ارب ڈالر سے زائد تھا۔
پاکستان کے ضلع خیبر کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر یوسف آفریدی نے کہا کہ طورخم کراسنگ کی بندش سے کم از کم 15 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
اس سے افغان معیشت کو درپیش چیلنجز میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بحران کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی امداد میں کٹوتی اور بینکاری کے شعبے کو متاثر کرنے والی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق لاکھوں افغانوں کو بھوک کا خطرہ لاحق ہے اور تقریباً نصف آبادی کو زندہ رہنے کے لیے انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
Comments