پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے حالیہ رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں دواؤں کی قیمتوں میں صرف پانچ سال کے دوران 15 بار اضافہ ہوا ہے۔
پی پی ایم اے کے چیئرمین توقیر الحق نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل غلط خبر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ 3 سال صرف ایک بار ضروری دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیشرفت اس کے بعد سامنے آئی ہے جب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ”ہیلتھ آف دی نیشن 2024“ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی جس کے بعد یہ رپورٹیں سامنے آئیں کہ حکومتوں نے پانچ سال میں ادویات کی قیمتوں میں 15 گنا اضافہ کیا ہے۔
پی ایم اے پاکستان میں ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ پی پی ایم اے ملک کی فارماسوٹیکل انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ہے۔
چیئرمین توقیر الحق نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری میں ادویات کی قیمتوں پر حکومت کا مکمل کنٹرول تھا، اور فروری 2024 تک ان قیمتوں میں صنعت کی طرف سے یکطرفہ طور پر اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں 162 ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جو تین سال کے وقفے کے بعد ہوا، جس میں تین سال کی بلند افراط زر اور روپے کی قدر میں کمی کو ایک ہی دفعہ ایڈجسٹ کیا گیا۔
توقیر الحق نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تین سال کی ایڈجسٹمنٹ ایک ساتھ کرنے سے یہ تاثر آیا کہ قیمتیں بے تحاشہ بڑھا دی گئیں جو کہ غلط ہے۔
ان کا خیال تھا کہ حکومت نے ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ”مشکل حالات“ کے تحت کیا ہے کیونکہ ان کی پیداواری لاگت مارکیٹ قیمتوں سے تجاوز کرگئی تھی جس کے نتیجے میں مینوفیکچررز اور مارکیٹرز کو شدید نقصان کا سامنا تھا۔
ادویات کی پیداواری لاگت کے مقابلے میں اس وقت کی کم قیمت نے ادویات کی کمی پیدا کی، ایک متوازی بلیک مارکیٹ وجود میں آیا (جس سے مافیا کو ادویات کو انتہائی زیادہ قیمتوں پر بیچنے کا موقع ملا)، اسمگلنگ کو فروغ دیا اور مریضوں کی مشکلات میں اضافہ کیا۔
ادویات فارمیسیوں میں ختم ہوگئیں یا بلیک مارکیٹ میں نمایاں طور پر زیادہ قیمتوں پر دستیاب تھیں، جن میں دل کی، اینٹی کینسر، ٹی بی، انسولین، مرگی اور دیگر ضروری ادویات شامل تھیں۔
پی پی ایم اے کے چیئرمین کے مطابق دواؤں کی قیمتوں میں مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی ایڈجسٹمنٹ نے ضروری فارماسوٹیکلز کی پیداوار اور فراہمی میں اضافہ کرنے میں مدد دی جس سے مارکیٹوں میں دواؤں کی کمی کو دور کیا گیا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کردیا ہے مگر ضروری ادویات کی قیمتوں کو اب بھی ریگولیٹ رکھنا جاری رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضروری دواؤں کی ڈی ریگولیشن نے ان کے مینوفیکچررز کے درمیان مسابقت پیدا کردی ہے اور انہیں قیمتوں میں حقیقی سطح سے زیادہ اضافہ کرنے سے روک دیا ہے۔
حکومت کا اس وقت ضروری اور غیر ضروری ادویات کی قیمتوں پر مکمل کنٹرول، بلند افراط زر اور روپے کی بے پناہ قدر میں کمی نے کئی غیر ملکی فارماسوٹیکل کمپنیوں کو پاکستان میں اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور کر دیا۔
فارما کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2024 کے اوائل میں غیر ضروری ادویات کی ڈی ریگولیشن سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت میں مثبت تبدیلیاں آئیں جس سے کمپنیوں کو ان ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کی اجازت ملی جو نیشنل ایسینشل میڈیسنز لسٹ (این ای ایم ایل) میں شامل نہیں تھیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پالیسی مارکیٹ پر مبنی نقطہ نظر اپنانے اور شعبے کے دیرینہ چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ہے۔
اہم مثالوں میں پیراسیٹامول اور آئبوپروفین جیسے ادویات کی دوبارہ پیداوار شامل ہوسکتی ہے جو اب زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں۔
تاہم، غیر ضروری دواؤں کی مجموعی استطاعت وسیع تر معاشی عوامل سے منسلک ہے۔
وفاقی چیمبر سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے اتحاد یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) نے رواں ماہ کے اوائل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے فارما سیکٹر میں آئندہ چند سال کے دوران دواؤں کی برآمدات کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔
یو بی جی کے مطابق فارماسیوٹیکل سیکٹر کی مالیت مالی سال 2023-24 میں 3.29 ارب ڈالر کے قریب تھی، جب کہ برآمدات کا کل حجم 341 ملین ڈالر تھا۔ یہ شعبہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں 1 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے اور درآمدات کی جگہ مقامی پیداوار کے ذریعے تقریباً 2 ارب ڈالر کی بچت کرتا ہے،
بیان میں کہا گیا کہ اس صلاحیت کو حقیقت بنانے کے لیے حکومت کو فارما سیکٹر کو مراعات فراہم کرنی چاہئیں، کاروبار کرنے کی آسانیوں کو یقینی بنانا چاہیے، اور فارماسیوٹیکل برآمدات کو ٹیرف میں اصلاحات، تجارتی سرمایہ کاری، اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
Comments