یورپی یونین جیسے جیسے اپنے ضوابط سخت کر رہا ہے، کئی ممالک اسے محض ایک لازمی ذمہ داری سمجھتے ہیں، مگر اس کے اثرات تجارتی تعلقات برقرار رکھنے سے کہیں زیادہ فائدے پہنچا سکتے ہیں۔
پائیداری کے معیارات سے ہم آہنگ ہو کر پاکستان عالمی ویلیو چین تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، برآمدی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے اور صنعتی ویلیو چین میں دیرینہ مسائل جیسے کہ کم رپورٹنگ، سیلز ٹیکس چوری اور ای ایف ایس (ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم) کے غلط استعمال کو حل کر سکتا ہے۔
چونکہ یورپی یونین پاکستان کی کل برآمدات کا 30 فیصد حصہ رکھتا ہے، اس کی کسی بھی قسم کی ضابطہ جاتی تبدیلی پاکستان کی تجارت پر اثر ڈالے گی۔ پالیسی سازوں کو اسے ایک چیلنج سمجھنے کے بجائے ایک موقع کے طور پر لینا ہوگا۔ اگرچہ پاکستان 2014 سے جی ایس پی پلس کے تحت ترقی کر چکا ہے، لیکن یورپی مارکیٹ تک مسلسل رسائی کا دار و مدار اب ان کے نئے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد پر ہوگا۔
ایسا ہی ایک فریم ورک ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ (ڈی پی پی) ہے جو ایکو ڈیزائن فار سسٹین ایبل پروڈکٹس ریگولیشن (ای ایس پی آر) کے تحت متعارف کرایا گیا تھا اور 2027 سے ٹیکسٹائل، دھاتوں اور بیٹریوں کے شعبوں میں لاگو ہوگا۔
جیسے کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے، ڈی پی پی صنعت کی ویلیو چین میں ایک ڈیجیٹل انقلاب لائے گا، جو مصنوعات کی اصل اور پیداواری عمل کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرے گا۔ یہ انسانی حقوق اور ماحولیاتی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا، تاکہ کوئی بھی پروڈکٹ شفافیت کے تقاضے پورے کیے بغیر برآمد کے اہل نہ ہو۔ ان تقاضوں کی تصدیق کیو آر کوڈ کے ذریعے کی جائے گی، جو پروڈکٹ کے بنیادی پیداواری تفصیلات فراہم کرے گا، لہٰذا ڈی پی پی یورپی یونین کو برآمدات کے لیے ایک لازمی شرط بن جائے گا۔
لیکن یہ سب کچھ نہیں ہے۔ ڈی پی پی کے ذریعے ویلیو چین کی ڈیجیٹلائزیشن نہ صرف شفافیت کو یقینی بنائے گی بلکہ دیرینہ مسائل جیسے کہ انڈر انوائسنگ، کم رپورٹنگ اور ای ایف ایس کے غلط استعمال کا بھی حل فراہم کرے گی۔ پاکستان کو اسے ایک اسٹریٹیجک فائدہ سمجھنا ہوگا، کیونکہ زیادہ شفافیت نہ صرف عالمی منڈیوں تک رسائی میں مدد دے گی بلکہ ٹیکس کمپلائنس کو بھی بہتر بنائے گی۔
ڈی پی پی کے ذریعے ویلیو چین کی ڈیجیٹلائزیشن کیوں ضروری ہے؟
سال 2013 کے بعد سے پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں کل برآمدات 76 فیصد اور ٹیکسٹائل برآمدات 87 فیصد بڑھی ہیں۔ تاہم، خریدار اب شفافیت اور ٹریس ایبلٹی کو ترجیح دے رہے ہیں، اور ڈی پی پی اب صرف ایک ضابطہ نہیں بلکہ یورپی مارکیٹ میں موجودگی برقرار رکھنے کے لیے ایک لازمی شرط بن چکا ہے۔
ایف بی آر طویل عرصے سے ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (ٹی ٹی ایس) جیسے اقدامات متعارف کروا رہا ہے، لیکن اس کا محدود دائرہ کار بہت سے شعبوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اصل ویلیو چین ٹریس ایبلٹی کے لیے ایک وسیع تر نقطہ نظر درکار ہے، جو شفافیت کو یقینی بنائے اور ٹیکس فراڈ کو روکے۔
پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر انتہائی منقسم ہے، جہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کا ایک بڑا حصہ جننگ اور اسپننگ کے مراحل پر کام کرتا ہے۔ زیادہ تر یا تو بڑے برآمد کنندگان کو سپلائی کرتے ہیں یا مقامی مارکیٹ کے لیے کام کرتے ہیں، مگر ٹیکسٹائل ویلیو چین میں عدم انضمام کے باعث سپلائی چین کے کئی چینلز ٹیکس چوری کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔
مالی سال 2025 کے بجٹ میں ای ایف ایس کے تحت مقامی سپلائیز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کیے جانے کے بعد، برآمد کنندگان نے ڈیوٹی فری اور سیلز ٹیکس فری درآمد شدہ یارن کا زیادہ استعمال شروع کر دیا، کیونکہ یہ مقامی یارن کے مقابلے میں سستا تھا۔
یہ رجحان دو بڑے مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ ایک تو مقامی یارن سپلائی کمزور پڑ رہی ہے، جس سے ایس ایم ایز بند ہو رہے ہیں، اور دوسرا یورپی یونین کی سخت ٹریس ایبلٹی شرائط کے تحت، درآمد شدہ یارن کے اصل ذرائع کی شناخت ضروری ہو گئی ہے۔
اگر کسی بھی پروڈکٹ میں سنکیانگ (چینی ایغور علاقے) سے براہ راست یا بالواسطہ یارن استعمال ہوا ہو، تو وہ یورپی یونین میں برآمدات کے لیے ممنوع ہوگی، جس سے نہ صرف برآمدات بلکہ برانڈ کی ساکھ اور مستقبل کی تجارتی پالیسیوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مگر اس کے باوجود، درآمد شدہ یارن کے استعمال کی نگرانی میں خامیاں برقرار ہیں۔ کئی مینوفیکچررز ای ایف ایس کا غلط استعمال کرتے ہوئے ڈیوٹی فری خام مال کو برآمدی پیداوار کے بجائے مقامی پروڈکشن میں استعمال کر رہے ہیں۔ اس پالیسی کے غیر قانونی استعمال کے ساتھ، 40 فیصد ایس ایم ای اسپننگ یونٹس بند ہو چکے ہیں، جس کا اثر مقامی کپاس کے کسانوں پر بھی پڑ رہا ہے، کیونکہ انہیں اپنی فصل کے خریدار نہیں مل رہے۔
پاکستان میں کاٹن فارمنگ کے مرحلے پر بہت سے غیر رجسٹرڈ کاٹن فارمرز ایک غیر رسمی مارکیٹ میں کام کرتے ہیں اور زیادہ تر غیر مصدقہ بیجوں پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاٹن کی پیداوار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ نتیجتاً، پاکستان امریکہ اور برازیل سے مہنگی کاٹن درآمد کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
ڈی پی پی کے تحت کسانوں کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دے کر، پاکستان ویلیو چین میں ٹریس ایبلٹی کو بڑھا سکتا ہے اور کاٹن کی پیداوار کو بہتر بنا سکتا ہے۔
کپاس کی تجارت میں وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری، جسے عام طور پر ”گول مال“ کہا جاتا ہے، ڈی پی پی کی ڈیجیٹل مداخلت کا متقاضی ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ ہر سال تقریباً 20 لاکھ گانٹھیں کم رپورٹ کی جاتی ہیں تاکہ سیلز ٹیکس سے بچا جا سکے۔ تخمینے کے مطابق صرف مالی سال 2024 میں گول مال کپاس اور بنولہ کی وجہ سے 32.8 ارب روپے کا سیلز ٹیکسن نقصان ہوا، جس نے ویلیو چین میں ٹیکس چوری کے عمل کو برقرار رکھا۔
ان سنگین چیلنجز کو دیکھتے ہوئے، ڈی پی پی کا نفاذ اب کوئی اختیار نہیں بلکہ ایک فوری ضرورت بن چکا ہے۔ ایک مضبوط ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی سسٹم کمپلائنس کو یقینی بنائے گا، ٹیکس چوری کو روکے گا، گول مال کے طریقوں کو ختم کرے گا اور ای ایف ایس کے تحت ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کرے گا۔
ڈی پی پی کے اسٹریٹجک استعمال اور ایف بی آر کا کردار
اس نظام کے نفاذ کے لیے ایف بی آر کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے، جن میں ایک مرکزی ڈیٹا بیس کا قیام شامل ہے، جس کا اشتراک وزارت تجارت جیسے متعلقہ اداروں کے ساتھ کیا جائے گا۔
ٹیکسٹائل ویلیو چین کے تمام فریقین کو برآمدات کے اہل ہونے کے لیے اس سسٹم میں رجسٹر ہونا اور اس میں ضم ہونا لازمی ہوگا۔ حتمی مصنوعات کے ساتھ ایک کیو آر کوڈ شدہ ڈی پی پی منسلک ہوگا، جس میں کھیت سے لے کر تیار شدہ لباس تک کمپلائنس کی تفصیلات موجود ہوں گی۔
گول مال کپاس کی گانٹھوں کو ٹریک کرنے کے لیے ریڈیو فریکوئنسی آئیڈنٹیفکیشن (آر ایف آئی ڈی) ٹیکنالوجی استعمال کی جا سکتی ہے، جو ہر گانٹھ کو منفرد گروپ آئی ڈی فراہم کرے گی، جس سے کھیت سے جننگ، اسٹوریج اور شپنگ تک تمام مراحل کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا سکے گا۔
اسی طرح، یارن، کپڑے اور تیار شدہ مصنوعات پر کیو آر کوڈز لگانے سے خام مال کے ذرائع — چاہے وہ درآمد شدہ ہو یا مقامی — کو ٹریس کیا جا سکے گا، جبکہ پائیداری کے معیارات جیسے پانی اور توانائی کے استعمال، اور جبری مشقت سے متعلق ضوابط کی بھی تصدیق کی جا سکے گی۔ مینوفیکچررز، سپلائرز، اور خریداروں کے لین دین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل طور پر دستاویزی کیا جائے گا تاکہ پوری ویلیو چین میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
رئیل ٹائم ڈیجیٹل ریکارڈز کے ذریعے ایف بی آر ہر مرحلے پر ویلیو ایڈیشن کی نگرانی کر سکے گا، جس سے ٹیکس چوری میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس وقت جیننگ میں ویلیو ایڈیشن 5 فیصد، اسپننگ میں 10 فیصد، ویونگ/نٹنگ میں 15 فیصد، فنشنگ میں 20 فیصد اور گارمنٹس کی تیاری میں 50 فیصد ہے۔
ڈی پی پی اس ڈیٹا کو پالیسی سازوں کے لیے شفاف بنائے گا۔ اسے پی او ایس پر مبنی ٹیکس کلیکشن سسٹم سے منسلک کرنے سے ٹیکس کی خودکار حساب بندی ممکن ہوگی، جس سے کم رپورٹنگ، جعلی انوائسنگ اور گھوسٹ ٹرانزیکشنز کا خاتمہ ہوگا، جبکہ ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت بھی کم ہو جائے گی۔
ای ایف ایس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے آٹومیشن
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، ای ایف ایس نے ٹیکسٹائل ویلیو چین میں دو بڑے بگاڑ پیدا کیے ہیں، ایک ڈیوٹی فری درآمدات کا مقامی مینوفیکچرنگ میں غلط استعمال اور دوسرا درآمد شدہ یارن کے اصل ذرائع کو ٹریس کرنے میں دشواری۔ یہ مسائل پورے نظام کی افادیت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور فوری حل کے متقاضی ہیں۔
سال 2024 تک، ای ایف ایس کے تحت 1,700 سے زائد برآمد کنندگان مستفید ہو رہے ہیں، جنہیں مالی سال کے اختتام کے 30 دن کے اندر سالانہ مفاہمتی بیان جمع کروانا ہوتا ہے، جبکہ ان کا ہر پانچ سال بعد آڈٹ کیا جاتا ہے۔
ڈیوٹی فری درآمدات کے لیے پہلے پانچ سال کی مدت رکھی گئی تھی، جسے اب کم کرکے نو ماہ کر دیا گیا ہے۔ اس طویل مدتی رعایت کے باعث اس کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال دیکھنے میں آیا، جہاں برآمدات کے لیے درآمد شدہ خام مال کو مقامی پیداوار میں استعمال کر کے ٹیکس چوری کی جاتی رہی۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے درآمد شدہ یارن کے اصل ذرائع کا سراغ لگانا ناگزیر ہو چکا ہے، جس میں اس کاٹن کی اصل، پیداواری عمل، اور لیبر و ماحولیاتی معیارات پر عمل درآمد شامل ہے، کیونکہ یورپی یونین کو برآمدات کے لیے یہ تمام تفصیلات ضروری ہیں۔ ڈی پی پی اس حوالے سے موثر نگرانی فراہم کرے گا، جس کے تحت ہر درآمد شدہ خام مال کو اس کی حتمی برآمدی مصنوعات سے ڈیجیٹل طور پر منسلک کیا جائے گا تاکہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
ڈی این اے ٹیسٹنگ اور ڈیجیٹل تصدیق کو یکجا کرتے ہوئے، درآمد شدہ یارن اور کپڑے کو انٹری پوائنٹس پر جانچا جا سکتا ہے اور ان پر ایک کیو آر کوڈ لگا کر ان کی اصل کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ یہ ریکارڈ حتمی مصنوعات سے ملا کر ان کی یورپی یونین کے ضوابط سے مطابقت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، جبکہ ای ایف ایس کے غلط استعمال کو بھی روکا جا سکتا ہے۔
یہ نظام اس امر کو یقینی بنائے گا کہ برآمد کنندگان ڈیوٹی فری درآمد شدہ خام مال کو نو ماہ کی مقررہ مدت میں ہی استعمال کریں۔ اگر وہ ان پٹس کا آؤٹ پٹ سے موازنہ کر کے ان کا حساب پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا یا ایف بی آر کی جانب سے ای ایف ایس کی سہولت ختم کر دی جائے گی۔
اس کے علاوہ، سیلز ٹیکس کی وصولی کو خودکار بنایا جائے گا تاکہ زیرو ریٹڈ اسکیموں جیسے کہ ای ایف ایس کے تحت ٹیکس ریفنڈز صرف مستند برآمد کنندگان کو ہی فراہم کیے جائیں۔
پاکستان میں ٹریس ایبلٹی کو لازمی قرار دینے کی فوری ضرورت
اس ڈیجیٹل تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
ماضی کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک کوئی قانونی طور پر پابند نظام نافذ نہیں کیا جاتا، مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا، نیشنل کمپلائنس کمیٹی (این سی سی) کو برآمد کنندگان کی تعمیل کی نگرانی کے لیے واحد ریگولیٹری ادارہ مقرر کیا جانا چاہیے۔
این سی سی کے ساتھ مربوط ایک مرکزی ڈیٹا بیس اسے ویلیو چین میں پائیداری کے معیارات کی نگرانی کرنے اور ڈی پی پی جاری کرنے کے قابل بنائے گا۔ یہ ڈی پی پی کیو آر کوڈز کی شکل میں ہوں گے، جس کے ذریعے یورپی خریدار کسی بھی مصنوعات کی ڈیجیٹل طور پر جانچ کر سکیں گے اور اس کی شفافیت سے متعلق تفصیلات حاصل کر سکیں گے۔
جو برآمد کنندگان مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہیں گے، انہیں ڈی پی پی جاری نہیں کیا جائے گا، اور نتیجتاً وہ اپنی مصنوعات برآمد نہیں کر سکیں گے۔
یہ نظام برآمد کنندگان کو ڈیٹا شیئرنگ میں تعاون کرنے اور ٹیکس کے ضوابط پر عمل درآمد کرنے پر مجبور کرے گا۔ جو برآمد کنندگان اس نظام پر عمل نہیں کریں گے، انہیں سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں ای ایف ایس کی سہولت کی منسوخی بھی شامل ہوگی۔
این سی سی کو ریگولیٹری اتھارٹی نامزد کرنا اور ڈی پی پی کو لازمی قرار دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ اقدام پاکستان کو جنوبی ایشیا میں برتری دلانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے میں مدد دے گا، یوں ملک پائیداری اور مالی نظم و ضبط میں آگے رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments