چیمپئنز ٹرافی کا سنسنی خیز ٹاکرا، پاکستان اور بھارت کا مقابلہ آج ہوگا
- میچ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے شروع ہوگا
کرکٹ کی سب سے بڑی رقابت کے یکطرفہ ہونے کے باوجود، جب اتوار کو دبئی میں چیمپئنز ٹرافی کے بڑے مقابلے میں بھارت اور پاکستان آمنے سامنے ہوں گے تو دونوں ممالک میں جذبات عروج پر ہوں گے۔
گزشتہ دہائی کے دوران آٹھ ون ڈے میچز میں سے سات میں بھارت نے کامیابی حاصل کی، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات کے باعث یہ ٹیمیں صرف کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتی ہیں۔
چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کا سفر کرنے سے انکار کرتے ہوئے، بھارت نے حکومتی ہدایات کو جواز بنایا اور اپنی تمام میچز دبئی میں کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے گروپ اے کے افتتاحی میچ میں بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دی۔
دوسری جانب، محمد رضوان کی قیادت میں پاکستان کی ٹائٹل کے دفاع کی مہم شدید مشکلات کا شکار نظر آ رہی ہے، کیونکہ نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد انہیں بھارت کے خلاف زبردست کم بیک درکار ہوگا۔
اس بڑے مقابلے کی زبردست تشہیر کی جا رہی ہے، تاہم بھارت کے نائب کپتان شبمن گل نے اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی۔
بنگلہ دیش کے خلاف میچ وننگ سنچری اسکور کرنے والے اوپنر نے ہفتے کے روز صحافیوں کو بتایا حقیقتاً یہ ہمارے لیے کچھ تبدیل نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہر میچ جیتنے کے لیے کھیلتے ہیں اور یہ میچ بھی ہمارے لیے مختلف نہیں ہے۔
بھارت-پاکستان کے کرکٹ مقابلے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ جب یہ دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آتی ہیں تو یہ ایک سنسنی خیز مقابلہ ہوتا ہے اور سبھی اسے دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔
بھارت کی ٹیم جسپریت بمراہ کے بغیر آئی ہے، لیکن انہیں اپنے فاسٹ بولنگ اٹیک کی کمی محسوس نہیں ہوئی، کیونکہ محمد شامی نے بنگلہ دیش کے خلاف پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کے بیٹنگ کے سب سے اہم ستون، بابر اعظم، نیوزی لینڈ کے خلاف نصف سنچری بنانے کے باوجود کارکردگی نہ دکھانے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
ان کے اوپننگ پارٹنر فخر زمان اس میچ میں انجری کا شکار ہو کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔
شبمن گل نے کہا کہ یہ ایک بڑا میچ ہے، لیکن میرے خیال میں سب سے بڑا میچ فائنل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی طور پر انہیں کمزور ٹیم نہیں سمجھ رہے۔ ان کے پاس ایک اچھی ٹیم ہے اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم کل اپنا بہترین کھیل پیش کریں۔
Comments