کوکا کولا پاکستان میں تقریباً 30 سال بعد منعقد ہونے والے سب سے بڑے کرکٹ ایونٹ سے فائدہ اٹھانے اور میزبان ملک کے آفیشل ٹیم اسپانسر پیپسی سے توجہ ہٹنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے وہ ملک کی مقبول ترین اسٹریٹ کرکٹ— ٹیپ بال کرکٹ—کو اپنی مہم کا حصہ بنا رہا ہے۔

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ میچز 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد معطل ہو گئے تھے اور یہ میچز 2018 میں دوبارہ بحال ہونا شروع ہوئے۔ پاکستان میں کمپنیاں اب چیمپئنز ٹرافی کو، جو بدھ کو شروع ہوئی، کئی دہائیوں میں سب سے قیمتی مارکیٹنگ موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

کوکا کولا پاکستان کی قومی ٹیم سے اپنا برانڈ منسلک کرنے سے قاصرہے، کیونکہ ٹیم کا اسپانسر پہلے ہی پیپسی ہے، کوکا کولا کی نئی مہم کرکٹ کے بخار اور ایک خالصتاً پاکستانی ایجاد— ٹیپ بال کرکٹ—سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جس کے لیے ایک محدود ایڈیشن کی بوتل متعارف کرائی گئی ہے۔

اردو اشتہار میں ایک نوجوان کو دکان میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو ٹینس بال اور الیکٹریکل ٹیپ مانگتا ہے، جو عام طور پر اسٹریٹ کرکٹ کے لیے تیز رفتار گیند بنانے میں استعمال کی جاتی ہے۔ دکاندار اسے ایک بال اور کوکا کولا کی بوتل تھما دیتا ہے۔

”یہ کیا ہے؟“ گاہک حیرانی سے پوچھتا ہے، جس پر دکاندار مسکرا کر سر ہلا دیتا ہے۔

اس کے بعد گاہک خوشی سے بوتل کے لیبل کے پیچھے سے نکلی ہوئی سرخ ٹیپ کو پیلی ٹینس بال پر لپیٹتا ہوا دکان سے باہر نکل جاتا ہے۔

پاکستان کی گلیوں میں کھیلی جانے والی ٹیپ بال کرکٹ کو کھیل میں داخلے کا پہلا زینہ سمجھا جاتا ہے اور اس نے ملک کے کئی نامور کرکٹرز پیدا کیے ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم محمد شعیب نے کہا کہ مجھے ٹیپ بال کرکٹ پسند ہے، اس لیے میں مانتا ہوں کہ یہ ایک زبردست مہم ہے۔

کوکا کولا کا کہنا تھا کہ یہ مہم ہر اس شخص کے لیے ایک یادگار اور خوشگوار تجربہ ہے جس نے پاکستان میں کبھی بھی اسٹریٹ کرکٹ کھیلی ہو۔

کمپنی کے مطابق، یہ خصوصی بوتلیں پاکستان کے بڑے شہروں کی مخصوص دکانوں پر فروخت کی جائیں گی۔ ایک انڈسٹری رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں کاربونیٹڈ ڈرنکس کے مارکیٹ شیئر میں کوکا کولا اور پیپسی کا مجموعی حصہ 80 فیصد سے زائد ہے۔

تاہم، اکتوبر میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں برانڈز مسلم اکثریتی ممالک میں صارفین کی جانب سے بائیکاٹ کی زد میں ہیں۔

کوک کی نئی پروڈکٹ استعمال کرنے کے بعد 19 سالہ معاذ احمد نے کہا، اس نے ریپنگ (گیند) کا بہت اچھا کام کیا ہے۔لیکن میں شاید اپنے ہی رول سے کچھ اور ٹیپ شامل کروں گا۔“

پاکستان نے آخری بار 1996 میں سری لنکا اور بھارت کے ساتھ مل کر ایک بڑا کرکٹ ایونٹ منعقد کیا تھا۔

پاکستان 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بھی تین دیگر ممالک کے ساتھ منتخب ہوا تھا، لیکن 2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد اسے مشترکہ میزبانوں کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔

Comments

200 حروف