ایشیائی مارکیٹ میں جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جو تین ہفتوں کی مسلسل گراوٹ کے بعد بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اس کی وجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب اور اس توقع کو قرار دیا جا رہا ہے کہ امریکہ کے عالمی جوابی ٹیرف اپریل تک نافذ نہیں ہوں گے جس سے تجارتی جنگ سے بچنے کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔
برینٹ فیوچر 23 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے سے 75.25 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 16 سینٹ یا 0.2 فیصد بڑھ کر 71.45 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچا۔
ہفتے کے دوران، برینٹ میں تقریباً 0.6 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو تجارتی اور معاشی حکام کو ہدایت دی کہ وہ ان ممالک کے خلاف جوابی ٹیرف کا جائزہ لیں جو امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرتے ہیں اور اپنی سفارشات یکم اپریل تک پیش کریں۔
آئی جی مارکیٹ اسٹریٹجسٹ یپ جون رونگ نے کہا کہ امریکی ٹیرف میں تاخیر کے تناظر میں تجارتی محاذ پر مثبت پیش رفت نے آج صبح تیل کی قیمتوں میں کچھ بحالی کی راہ ہموار کی ہے، کیونکہ خطرے کا ماحول مزید تجارتی مفاہمت کے امکانات کے لیے سازگار ہوتا جا رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی
یپ نے کہا کہ تاہم، تیل کی قیمتوں میں اضافہ محدود دکھائی دے سکتا ہے، کیونکہ مارکیٹ کے شرکاء کو اس امکان کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ یوکرین-روس امن مذاکرات کے نتیجے میں روسی سپلائی دوبارہ مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے نے تاجروں کو تشویش میں مبتلا رکھا، کیونکہ ماسکو پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے عالمی توانائی کی سپلائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ان کے ساتھ الگ الگ فون کالز میں امن کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد ٹرمپ نے رواں ہفتے امریکی حکام کو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت شروع کرنے کا حکم دیا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے تیل مارکیٹ کی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر امریکی پابندیوں کے تازہ ترین پیکیج کے حل تلاش کر لیے جاتے ہیں تو روسی تیل کی برآمدات برقرار رہ سکتی ہیں، کیونکہ گزشتہ ماہ روسی خام تیل کی پیداوار میں قدرے اضافہ ہوا تھا۔
دریں اثنا، جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو ایک رپورٹ میں کہا کہ تیل کی عالمی طلب 103.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے، جو سالانہ 1.4 ملین بیرل اضافہ ہے.
Comments