اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے نئے امام، پرنس رحیم آغا خان پنجم، نے منگل کے روز اپنی تخت نشینی کی تقریب میں اپنے خاندان کے ہمراہ عالمی اسماعیلی قیادت کا استقبال کیا۔
یہ تقریب پرتگال کے شہر لزبن میں اسماعیلی امامت کے دیوان میں منعقد ہوئی۔ اسماعیلی برادری کے رہنماؤں نے عالمی اسماعیلی برادری کی طرف سے 50 ویں موروثی امام کی روحانی بیعت کی۔
دنیا بھر کے اسماعیلیوں نے 35 سے زائد ممالک میں اپنے جماعت خانوں میں لائیو اسٹریم کے ذریعے اس تقریب کا مشاہدہ کیا۔
اپنے خطاب میں آغا خان نے اپنے مرحوم والد پرنس کریم آغا خان چہارم کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی موجودگی اور حمایت پر ان کے اہل خانہ کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے پرتگال اور مصر کی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جس طرح انہوں نے ان کے والد کی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کی تدفین کے باوقار انتظامات میں سہولت فراہم کی۔
یہ پہلا موقع تھا جس پر آغا خان پنجم بین الاقوامی اسماعیلی برادری سے خطاب کر رہے تھے۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے اسماعیلی جماعت کی روحانی اور مادی فلاح و بہبود کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کا عہد کیا۔
انہوں نے اسماعیلی مسلم عقیدے کے اصولوں، دنیوی اور روحانی معاملات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت اور عقیدے پر باقاعدگی سے عمل کرنے کے بارے میں بات کی۔ ان کا پیغام امن، رواداری، شمولیت اور ضرورت مندوں کی حمایت کے عالمگیر تصورات پر مرکوز تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی کمیونٹی ان ممالک کے وفادار اور فعال شہری بنے جہاں وہ رہتے ہیں اور انہوں نے اسماعیلی برادری پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق معاملات میں مثال قائم کریں۔ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے کام سے کئی دہائیوں تک گہری وابستگی رکھنے والے شہزادہ رحیم آغا خان نے مستقبل میں تبدیلی کی رفتار کے ساتھ تسلسل اور استحکام کو متوازن کرنے کا عہد کیا۔
انہوں نے حکومتوں اور شراکت داروں کے ساتھ دوستانہ اور تعمیری تعلقات برقرار رکھنے اور امن، استحکام اور مواقع کے لئے اپنے والد کی طرح ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی عہد کیا۔ 2018ء میں شہزادہ کریم آغا خان چہارم نے ہینریک ڈی مینڈونکا پیلس، لزبن کو اسماعیلی امامت کی نشست قرار دیا جسے ”اسماعیلی امامت کا دیوان“ کہا جاتا ہے۔
دیوان کی اصطلاح عربی، ہندوستانی اور فارسی اصطلاح ہے جو جب اس تناظر میں استعمال ہوتی ہے تو اس کا مطلب دربار یا امام زمانہ کا چیف ایڈمنسٹریٹو آفس ہوتا ہے۔
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے اپنی تخت نشینی کی تقریب میں شیعہ اسماعیلی مسلم جماعت کے عالمی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ یہ تقریب امام کی ذمہ داریوں کے باضابطہ آغاز کی علامت ہے۔
تقریب میں مذہبی تلاوت، منصب کی علامتوں کا پیش کیا جانا اور پہنایا جانا، اور اسماعیلی جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے روحانی وفاداری کا عہد شامل ہوتا ہے۔
اس موقع پر امام کا اپنی برادری سے خطاب کرنے کا رواج ہے۔
یہ تقریب دنیا بھر میں شیعہ اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے موجودہ، زندہ، روحانی رہنما کی حیثیت سے امام کے اختیار کی تصدیق کرتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments