رواں برس کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 278 روپے 55 پیسے پر بند
انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں رواں کلینڈر ایئر کے آخری کاروباری سیشن کا اختتام منفی انداز میں کیا ہے۔ منگل کے کاروباری روز ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 7 پیسے کم ہونے کے بعد روپی 278 روپے 55 پیسے پر بند ہوا۔
سال 2024 کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے ایک نوٹ میں کہا کہ روپے کی قدر میں 1.2 فیصد اضافہ ایک مضبوط بیرونی پوزیشن کی وجہ سے ہوا ہے، جس میں کلینڈر ایئر 2024 کے 11 ویں مہینے میں 646 ملین ڈالر کا سرپلس رہا جو کہ گزشتہ برس کے اس عرصے میں 1.1 ارب ڈالر کا خسارہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر دسمبر 23 کے 8.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جس سے روپے کو بھی تقویت ملی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں کے درمیان فرق کو کم کرنے سے بھی کرنسی کے استحکام میں مدد ملی۔
بین الاقوامی سطح پر، سال کے آخری تجارتی سیشن میں امریکی ڈالر مستحکم رہا اور 2024 میں بیشتر کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط فائدے کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی، کیونکہ سرمایہ کار کم شرح سود میں ممکنہ کمی اور ٹرمپ انتظامیہ کی آنے والی پالیسیوں کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔
امریکی ڈالر کی بڑھتی قدر، جو بڑھتے ہوئے ٹریژری ییلڈز سے مضبوط ہوئی ہے، نے ین کو جولائی کے بعد کی کم ترین سطح پر دھکیل دیا ہے، جب جاپانی حکام نے آخری بار مداخلت کی تھی۔ منگل کو ین کی قدر 157.02 فی امریکی ڈالر تھی، جو 2024 میں 10 فیصد کمی کی طرف گامزن ہے، اور ڈالر کے مقابلے میں مسلسل چوتھے سال گراوٹ کا سامنا کررہی ہے۔
اس کے نتیجے میں امریکی ڈالر انڈیکس 108.06 پر آگیا ہے، جو اس ماہ کے دوران دو سال کی بلند ترین سطح سے زیادہ دور نہیں ہے۔
2024 میں انڈیکس میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ تاجروں نے آئندہ سال شرح سود میں کمی کے دعوے کو کم کردیا ہے۔
فیڈرل ریزرو نے رواں ماہ کے اوائل میں 2025 کے لیے شرح سود کی پیش گوئی کو 100 بیسس پوائنٹس سے کم کرکے 50 بیسس پوائنٹس کر کے مارکیٹوں کو حیران کردیا تھا۔
خام تیل کی قیمتیں منگل کو ابتدائی سیشن میں بڑھ گئیں، اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر میں چین کی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا تھا۔
برینٹ کروڈ فیوچر 47 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے سے 74.46 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 49 سینٹ اضافے کے ساتھ 71.48 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ سال کے لئے برینٹ میں 3.2 فیصد جب کہ ڈبلیو ٹی آئی میں 0.6 فیصد کمی آئی۔
Comments