ٹریفک حادثات میں اموات اتنا سنگین مسئلہ بن چکا ہے کہ کراچی کے پولیس چیف کو پریس کانفرنس کر کے خبردار کرنا پڑا اور ان اقدامات کا اعلان کرنا پڑا جو کراچی کی سڑکوں پر اس قتل عام کو کنٹرول کرنے کے لیے پلان کیے گئے ہیں۔ٹریفک حادثات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے موٹر سائیکل سوار ہیں جو 57 فیصد متاثرین پر مشتمل ہیں۔ یہ بات واضح ہے کیونکہ یہ حادثات یومیہ بنیادوں پر دیکھے جاتے ہیں ۔

آن لائن آرڈر کردہ ہوم ڈلیوری خدمات میں تیزی سے اضافے کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر نقل و حرکت میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کر فون پر آرڈر کرتے ہیں، اور اس کے فوراً بعد ایک موٹر سائیکل سوار سڑک پر نکلتا ہے، ریکارڈ وقت میں منزل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض اوقات گاہک کی مسلسل کالز ترسیل کرنے والے کی جلد بازی میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔

خطرہ رات کے وقت مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر موٹر سائیکل سواروں کے پاس پچھلی لائٹس نہیں ہوتی، جس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس طرف مڑنے والے ہیں یا اچانک رک جاتے ہیں تاکہ گائیڈنگ نقشے سے وہ صحیح مقام پر پہنچ سکیں ۔

ٹریفک لائٹس اور ون وے سڑکوں کے بارے میں جتنا کم کہا جائے اتنا بہتر ہے۔ روزانہ میں انہیں خلاف ورزی کرتے دیکھتا ہوں اور اکثر یہ خلاف ورزی کرنے والے موٹر سائیکلوں پر کھانے پینے کے اداروں کے لوگو نظر آتے ہیں۔ حقیقت میں، ان اداروں کے مالکان کو اس بات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ جن موٹر سائیکلوں پر ان کے لوگو ہوں، وہ ٹریفک قوانین اور سڑکوں پر لگے ہوئے نشانوں کا احترام کریں اور سڑک پر چلنے والی دیگر گاڑیوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔

ٹریفک حادثات کے اصل شکار موٹر سائیکل سوار ہیں، لیکن ان حادثات کے بڑے ذمے دار کون ہیں؟ جی ہاں، بڑی گاڑیاں، خاص طور پر ڈمپر ٹرک جو کراچی کی سڑکوں پر بڑھ چکے ہیں، خاص طور پر ملیر ایکسپریس وے جیسے تعمیراتی منصوبوں کے ساتھ ۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جہاں ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے 10 دن کی مہم کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ ہیلمٹ پہنیں آور دوسرے حفاظتی اقدامات جیسے انڈیکیٹرز کے درست استعمال پر قائل کیا جا سکے، وہیں بھاری گاڑیوں، خاص طور پر ڈمپر ٹرکوں کے لیے کوئی ایسا منصوبہ نہیں ہے۔

یہ ان کے مالکان کی طاقت اور اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ میری رائے میں سب سے ضروری قدم یہ اٹھایا جانا چاہیے کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ تمام ڈرائیوروں کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس ہو۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سی گاڑیاں ان کے کلینرز اور دوسرے لوگ چلا رہے ہیں جن کے پاس مطلوبہ لائسنس یا تربیت نہیں ہے۔

اس کے علاوہ، بھاری گاڑیاں جو تیز رفتاری سے چل رہی ہیں، ہمارے سڑکوں پر وحشی بیٹرنگ رم کی طرح ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایسا نہ ہو جس کے نتیجے میں متاثرین کو کچل دیا جائے، چاہے وہ سڑک کے کنارے پر چل رہے ہوں، جیسے وہ پروفیسر جو خوشی خوشی اپنے نئے گھر جا رہے تھے، اور ان کے خواب ایک غیر ذمہ دار ڈمپر ٹرک کے ڈرائیور کی وجہ سے کچلے گئے۔

گزشتہ برسوں میں ایک اہم طریقہ جو نہ صرف ڈرائیورز بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کو بھی محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، وہ گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ کی سخت نگرانی تھی۔ مجھے آج بھی وہ لمبی قطاریں یاد ہیں، جن میں عوامی گاڑیاں، حتیٰ کہ گھوڑا گاڑیاں بھی شامل تھیں، جو قائداعظم کے مزار کے ارد گرد کھلی جگہوں پر سالانہ معائنہ کے لیے کھڑی ہوتی تھیں۔

جب میں نے یہ اعلان سنا کہ سندھ حکومت نے جدید سیکیورٹی خصوصیات والے نئے موٹر وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹس (ایم وی ایف سیز) متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، تو میں اس بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس کا مقصد گاڑیوں کی فٹنس کو بہتر بنانا، سڑکوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا، جعلی سرٹیفکیٹس کے اجرا کو روکنا، اور حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔

میں دل سے امید کرتا ہوں کہ یہ تمام اقدامات یقینی بنائے جائیں کیونکہ کراچی ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں بڑے حادثات اس وجہ سے پیش آ رہے ہیں کہ گاڑیاں خراب بریکوں اور دیگر خرابیوں کے ساتھ سڑکوں پر چل رہی ہیں، جو کہ تباہ کن نتائج کا باعث بن رہی ہیں۔کبھی کبھار یہ حادثات پوری فیملیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایسی دل دہلا دینے والی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ پورے شادی کے قافلے کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور صرف دلہن یا دلہا ہی زندہ بچ جاتے ہیں جو اس سانحے کے دکھوں کا سامنا کرتے ہیں۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ پولیس کی اعلیٰ قیادت کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے حوالے سے فکر مند ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کو تعلیم دینے کے علاوہ وہ یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ ہمارے سڑکوں پر چلنے والی بھاری گاڑیوں کے پاس درست حفاظتی سرٹیفکیٹس ہوں اور ان کے ڈرائیوروں کے پاس ضروری ڈرائیونگ لائسنس موجود ہوں، تاکہ کراچی کی سڑکیں بے گناہ شہریوں کے لیے موت کے جال نہ بنیں۔

Zia Ul Islam Zuberi

The writer is a well-known columnist

Comments

200 حروف