پیدل چلنا واقعی ایک بڑی نعمت ہے۔ آپ اس حقیقت کو اس وقت سمجھتے ہیں جب کسی وجہ سے، چاہے حادثے یا بیماری کی بنا پرہو، خدا کی دی ہوئی یہ نعمت محدود یا رکاوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ چہل قدمی کی کئی اقسام ہیں۔
عمومی طورپرپیدل چلنا، جو ہمیں ہمارے گھر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لے جاتا ہے، یا نزدیک کے کریانہ دکان تک، یا صرف دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے جانا۔ ہم اس قسم کا پیدل چلنا بہت بار کرتے ہیں اور کبھی بھی اس فائدے کے بارے میں نہیں سوچتے جو ہمارے دونوں پاؤں ہمیں فراہم کرتے ہیں۔
یہ صرف اپنے جسم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ بہترین قسم کی ورزش ہے جو ہمیں فٹ رکھتی ہے اور کئی بیماریوں خاص طور پر دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
پیدل چلنے کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسی ورزش ہے جو مفت ہے اور کسی سامان کی ضرورت نہیں ہے بشرط یہ کہ آپ ان مصروف افراد میں سے ایک نہ ہوں جن کے پاس اپنے دفاتر سے باہر نکلنے کا وقت ہی نہیں اور وہ بڑی کھلی جگہوں میں چہل قدمی کرنے کے بجائے ٹریڈ مل کو ترجیح دیتے ہیں۔ پیدل چلنے کی سب سے پسندیدہ اور لطف اندوز ہونے والی قسم پارک میں چہل قدمی ہے۔
کراچی کے زیادہ تر علاقوں میں چہل قدمی مفت یا کم سے کم فیس کے ساتھ ہوسکتی ہے جو کسی عام آدمی کی جیب پر بوجھ نہیں ہے۔
چند بہترین پارکس جہاں آپ چہل قدمی اور آرام کر سکتے ہیں ان میں سفاری پارک، ہل پارک، باغِ ابنِ قاسم، ہلال پارک، زمزہ پارک، امیر خسرو پارک اور پھر وہ ہمیشہ سرسبز اور تاریخی فریئر ہال کے باغات شامل ہیں، جہاں ہر شام بڑی تعداد میں لوگ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جو لوگ مزید ایڈونچر پسند کرتے ہیں اوراپنی فٹنس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، وہ ان پارکس میں بڑی تیزی سے دوڑتے ہیں، جو آہستہ چلنے والوں کے درمیان سے جَگہ بناتے ہوئے اپنے دوستوں کا پیچھا کرتے ہیں جو ان کے ساتھ جاگنگ کر رہے ہوتے ہیں۔
چہل قدمی اور جاگنگ کے بارے میں لوگ بہت سے سوالات پوچھتے ہیں۔ چہل قدمی کے وقت، چہل قدمی کے دورانیے وغیرہ کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
زیادہ تر ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ کم از کم 30 منٹ نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ کئی بیماریوں کی روک تھام یا ان پر قابو پانے میں بھی مدد دے سکتا ہے جیسے ذیابیطس، دل کی بیماریاں وغیرہ۔
چہل قدمی کا وقت بھی ہے جس پر عام طور پر کچھ لوگوں کا اصرار ہوتا ہے کہ صبح سویرے اس کے لئے بہترین وقت ہے لیکن دوسرے لوگ رات کے کھانے سے پہلے کی چہل قدمی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ شاید اس سے ان کی بھوک بھی بڑھ جاتی ہے اور ان کے کھانے میں مزید مزہ آتا ہے۔
شام کو چہل قدمی کرنے کا خاص طور پر ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ماہرین صحت کے مطابق اس سے آپ کی نیند اور یہاں تک کہ آپ کے موڈ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دیگر بڑے فوائد میں ہڈیوں کی مضبوطی، صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنا اور کچھ ذرائع کے مطابق کینسر جیسی بڑی بیماریوں کے حملے کو روکنا بھی ان میں شامل ہے۔
کس نے سوچا ہوگا کہ اپنی ٹانگوں کو ایک یا دوسری سمت میں حرکت دینے کا آسان عمل صحت کے لحاظ سے اس طرح کے فوائد دے سکتا ہے اور ڈاکٹر کے پاس جانے کے کئی دوروں سے بچا سکتا ہے۔
تفریح کی بات یہ ہے کہ پارک میں چلنے کا ٹریک اکثرو بیشتر علاقوں میں ایک پینٹومائم (خاموش ڈرامہ) کی طرح نظر آتا ہے جو کھلے عام دکھایا جا رہا ہو۔ مختلف کردار ایک کے بعد ایک آتے ہیں، اور اگر آپ میں مشاہدے اور سننے کی اچھی صلاحیت ہو تو آپ صرف ٹریک پر چلتے ہوئے ارد گرد ہونے والی حرکات و سکنات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
چہل قدمی کے شوقین کی حیثیت سے میں نے بزنس ڈیلز کو بھی سنا ہے جو چلنے یا جاگنگ کرنے والے شخص نے اس خیال سے کیے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بے پرواہ ہو کر بات چیت کرتا ہے، بحث کرتا ہے اور کبھی کبھار تو وہ ڈیل مکمل بھی کر لیتا ہے، جو اس کی چلنے کی رفتار میں نیا جوش بھر دیتا ہے۔
پارک کے چلنے والے رستے پر خواتین مختلف ترکیبوں پر باتیں کرتی ہوئی سنائی دیتی ہیں جبکہ کچھ نوجوان لڑکیاں جو دوستوں کے ساتھ چہل قدمی کر رہی ہوتی ہیں، اپنی تنظیموں میں آنے والی مشکلات اور نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے بارے میں بات کرتی نظر آتی ہیں۔
سائیڈ لائنز پر مارشل آرٹس کی کلاسز بھی چل رہی ہوتی ہیں جو عموماً نوجوان لڑکیوں کے لیے ہوتی ہیں اور ماہرین کی نگرانی میں ہلکی ورزشیں کی جاتی ہیں جس کے پس منظرمیں مناسب آواز میں موسیقی چلتی ہے ۔
جی ہاں، یہ نہ بھولیں کہ وہ لوگ جو پارکوں کا رخ وزن کم کرنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ وزن بڑھانے کے لیے آتے ہیں۔ یہ وہ خاندان ہوتے ہیں جو کھلے ماحول میں کھانا پسند کرتے ہیں اور مختلف قسم کے کھانے، خاص طور پر بریانی لے کر آتے ہیں۔
پھر وہ خاندان چادر بچھا کراس پر بیٹھ جاتے ہیں جو ڈائننگ ٹیبل کے طور پر بچھائی جاتی ہے اور کھلے آسمان تلے کھانے سے لطف اندوزہوتے ہیں۔
پھر وہ لمحہ آتا ہے جس کا پارک کی سارے بلیوں کو انتظار ہوتا ہے، جو کھانے والے خاندان کے ارد گرد جمع ہو کر ان ٹکڑوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں جو ان کی طرف پھینکے جاتے ہیں۔
یہ وہ لمحات ہیں جب صحت مند زندگی اور سکون سے جینے کا کوئی بھی لمحہ بیزار نہیں ہوتا۔ تو آپ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ بس اپنے قریب ترین پارک میں جائیں اور یہ سب کریں۔ کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2024
ضیاءالاسلام زبیری لکھاری معروف کالم نگار ہیں۔
Comments