انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جی ایچ کیو پر حملے کے کیس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 رہنماؤں اور کارکنوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے گزشتہ سال مئی میں پاک فوج کے سخت سکیورٹی والے جی ایچ کیو پر مبینہ حملے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) راولپنڈی کو 10 دسمبر کو علی امین گنڈاپور کے ساتھ تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
علی امین گنڈاپور کے علاوہ پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں میں 25 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہیں جن میں سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کے علاوہ شہریار آفریدی، زین قریشی، طاہر صادق اور تیمور مسعود شامل ہیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کو جی ایچ کیو پر مبینہ حملے کے سلسلے میں پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سمیت 100 کے قریب پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں پر فرد جرم عائد کی تھی۔
مقدمے میں عمران خان سمیت 143 سے زائد افراد کو ملزم نامزد کیا گیا تھا جبکہ زلفی بخاری، شہباز گل اور مراد سعید سمیت 23 افراد مفرور ہیں۔ اس کے علاوہ تمام ملزمان کے بیرون ملک سفر پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے معزول وزیر اعظم کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے کم از کم 70 رہنماؤں پر 9 مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی کرنے اور کارکنوں اور حامیوں کو فوجی اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔
9 مئی کے فسادات تقریبا ملک بھر میں اس وقت شروع ہوئے جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کے تصفیے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے سیکڑوں کارکنوں اور سینئر رہنماؤں کو گزشتہ سال تشدد اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے پر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔
مظاہرین نے لاہور اور راولپنڈی میں جناح ہاؤس اور جی ایچ کیو سمیت سول اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ فوج نے 9 مئی کو ”یوم سیاہ“ قرار دیا اور آرمی ایکٹ کے تحت مظاہرین پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی نے عام شہریوں کے خلاف مقدمے کو عدالت میں چیلنج کیا ہے جس پر رواں ہفتے ملک کی سب سے بڑی عدالت سماعت کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024
Comments