وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 24 نومبر کے تشدد میں ملوث شرپسندوں کو سخت سزا ملے گی، جبکہ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد مارچ کے دوران پاکستان آرمی اور مظاہرین کے درمیان کوئی براہ راست تصادم نہیں ہوا۔
وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی رہنما مراد سعید پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے مشتعل ہجوم کو ڈی چوک کی طرف لے جانے کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس خیبر پختونخوا میں پناہ لی تھی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں پی ٹی آئی کے مفرور رہنما مراد سعید کو تقریبا 1500 شدت پسند جنگجوؤں کا سربراہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’فرنٹ گارڈ گروپ‘ نے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کے لیے عسکری ہتھکنڈے استعمال کیے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی دارالحکومت میں امن و امان کو خراب کرنے اور معیشت کو سبوتاژ کرنے کی اپنی ناکام کوشش کو چھپانے کے لئے جھوٹی خبریں اوربے بنیاد پراپیگنڈہ پھیلا رہی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی، انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار امن و امان برقرار رکھنے کے لئے موجود تھے اور ان کے پاس کوئی گولہ بارود نہیں تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ شرپسندوں نے پاکستان رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ سے معیشت کو روزانہ 192 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے اندھا دھند فائرنگ کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار زخمی ہوئے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کی رٹ قائم کرے اور اسے برقرار رکھے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا کی آزادی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ حکومت میڈیا اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت میں ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے ایک قانون متعارف کرانے پر کام کررہی ہے۔
اس موقع پر ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں پی ٹی آئی کے مظاہرین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہتھوڑے، لاٹھیاں، پتھر اور سلیش شاٹس سے حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
تارڑ یہ باتیں ایک پریس کانفرنس میں کررہے تھے جس میں اسلام آباد کے آئی جی پولیس علی ناصر رضوی اور سیکرٹری داخلہ خرم علی آغا بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی احتجاج کی آڑ میں تشدد کا سہارا لے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی نے دنیا میں کہیں بھی پرامن احتجاج کے ہاتھوں میں ہتھیار دیکھے ہیں؟ ان مظاہروں میں 37 افغان شہری بھی پی ٹی آئی کا حصہ تھے۔
تارڑ نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے بھی پی ٹی آئی کے ”آزادی“ کے جھوٹے نعرے کو مسترد کر دیا کیونکہ وہ افراتفری کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔
تاہم وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے حالیہ پرتشدد مظاہروں سے معیشت کو روزانہ 192 ارب روپے کا بالواسطہ نقصان ہوا ہے اور پی ٹی آئی اور اس کے سوشل میڈیا پروپیگنڈے کرنے والے معاشرے میں تقسیم اور الجھن پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر چاہے ملک کے اندر ہوں یا بیرون ملک، ان کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا اور کسی کو بھی نفرت اور جعلی خبریں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پریس ریلیز میں نشاندہی کی گئی کہ 26 نومبر کو احتجاج کرنے والے شرپسند اسلام آباد ہائی کورٹ کے قانونی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریڈ زون پہنچے اور فائر آرمز، آنسو گیس کے گولے، اسٹن گرینیڈ، اسٹیل اسلنگ شاٹس اور کیل سے لیس ڈنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے ایل ای اے کے ساتھ براہ راست متعدد بار جھڑپیں کیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس اور رینجرز پر مشتمل قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے بغیر کسی گولہ بارود کے تعینات کیا گیا تھا جبکہ فوج نہ تو ان شرپسندوں کے ساتھ براہ راست جھڑپ میں آئی اور نہ ہی فسادات پر قابو پانے کیلئے کام کیا گیا۔
اس میں کہا گیا ہے کہ احتجاجی رہنماؤں کے مسلح محافظوں اور سخت گیر مسلح شرپسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کا سہارا لیا۔ اس طرح کے خود ساختہ تشدد کی آڑ میں قیادت پرتشدد ہجوم کو کنٹرول کرنے کے بجائے علاقے سے بھاگ گئی۔
پرتشدد مظاہرین اور شرپسندوں سے علاقے کو خالی کرانے کے بعد وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے فوری طور پر سائٹ میڈیا کا دورہ بھی کیا جس کے بعد پریس کانفرنس کی گئی۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ایل ای اے سے ہونے والی اموات کے بارے میں منصوبہ بند اور مربوط بڑے پیمانے پر جعلی پروپیگنڈے کا سہارا لیا تاکہ اس احمقانہ، پرتشدد اور ناکام سرگرمی سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل من گھڑت سوشل میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے۔
وزارت نے کہا کہ سوشل میڈیا، پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت کے پیجز اور ان کے آفیشل پیجز پر اموات کے متعدد جھوٹے دعوے کیے گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے بعض عناصر بھی بغیر کسی قابل اعتماد ثبوت کے اس جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے۔
Comments